Anwar-ul-Bayan - An-Nahl : 68
وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ
وَاَوْحٰى : اور الہام کیا رَبُّكَ : تمہارا رب اِلَى : طرف۔ کو النَّحْلِ : شہد کی مکھی اَنِ : کہ اتَّخِذِيْ : تو بنا لے مِنَ : سے۔ میں الْجِبَالِ : پہاڑ (جمع) بُيُوْتًا : گھر (جمع) وَّ : اور مِنَ : سے۔ میں الشَّجَرِ : پھل وَمِمَّا : اور اس سے جو يَعْرِشُوْنَ : چھتریاں بناتے ہیں
اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے پیں گھر بنا۔
(16:28) النحل۔ اسم جنس ۔ شہد کی مکھی۔ مکھیاں۔ اتخذی۔ امر واحد مؤنث حاضر۔ اتخاد (افتعال) سے اخذ مادہ۔ یعرشون۔ مضارع جمع مذکر غائب باب ضرب ونصر۔ انگور کی بیلوں کے لئے بانس وغیرہ کی ٹٹیاں بناتے ہیں یا ایسی ٹیٹوں پر وہ جو بیلیں چڑھاتے ہیں۔ العرش۔ اصل میں چھت والی چیز کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع عروش ہے۔ نیز ملاحظہ ہو 7:137 ۔ کلی۔ امر واحد مؤنث حاضر ۔ تو کھا۔ اکل یا کل (باب نصر) اکل مصدر۔ اسلکی۔ امر واحد مؤنث حاضر۔ تو چل سلوک مصدر۔ (باب نصر) ۔ سبل۔ سبیل کی جمع۔ راستے ۔ راہیں۔ ذللا۔ ذلول کی جمع ہے۔ بمعنی نرم۔ مطیع۔ مسخر ۔ آسان۔ ذل سے یہ فاسلکی کی ضمیرکا حال ہے۔ فاسلکی سبل ربک ذللا ط۔ پھر بڑی تابعداری وفرماں برداری سے بےچون وچرا اپنے رب کے بتائے راستوں (شہد کی تیاری میں ) چلتی رہ۔ یا یہ سبل کا حال ہے۔ بمعنی راستے جو تیرے لئے آسان کر دئیے ہیں۔
Top