Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 116
فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ
فَتَعٰلَى : پس بلند تر اللّٰهُ : اللہ الْمَلِكُ : بادشاہ الْحَقُّ : حقیقی لَآ : نہیں اِلٰهَ : کوئی معبود اِلَّا هُوَ : اس کے سوا رَبُّ : مالک الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ : عزت والا عرش
تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی) شان اس سے اونچی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش بزرگ کا مالک ہے
(23:116) تعلی۔ تعالیٰ سے (باب تفاعل) سے ماضی واحد مذکر غائب۔ وہ برتر ہے وہ بلند ہے۔ باب تفاعل سے مبالغہ کے لئے لایا گیا ہے۔ العرش الکریم۔ موصوف وصفت ہوکر رب کا مضاف الیہ ہے۔ عرش سے مراد عام اصطلاح میں تخت شاہی ہے ۔ قرآن مجید میں بھی انہی معنوں میں آیا ہے۔ مثلاً ورفع ابویہ علی العرش (12:100) اور اونچا بٹھایا اپنے ماں باپ کو تخت پر۔ اور اھکذا عرشک (27:42) کیا تیرا تخت بھی ایسا ہی ہے۔ لیکن جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد ایسا عرش ہے جو کہ بجز نام کے بشر کے فہم و ادراک سے بالاتر ہے۔ قرآن میں عرش کے وصف میں تین نام آئے ہیں۔ (1) العظیم۔ جیسے اللہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم (27:26) اللہ وہ ہے کہ سوائے اس کے کوئی معبود نہیں مالک نہیں ہے عرش عظیم کا۔ (2) المجید۔ جیسے وھو الغفور الودود ذوا العرش المجید (85:14 ۔ 15) اور وہ ہی بڑا بخشنے والا ہے بڑا محبت کرنے والا ہے۔ عظیم عرش کا مالک ہے یہ قرات حمزہ اور کسائی کی ہے جنہوں نے المجید کو جر سے پڑھا ہے۔ اس قرات کے لحاظ سے العرش المجید صفت موصوف ہیں۔ اور دونوں مل کر ذو کے مضاف الیہ۔ لیکن اکثریت مفسرین کی اس طرف ہے کہ المجید رفع کے ساتھ ہے ذو العرش اللہ تعالیٰ کی الگ صفت ہے صاحب عرش ۔ عرش کا مالک یا خالق اور المجید الگ صفت ہے۔ بڑی عظمت والا۔ (3) الکریم۔ جیسے آیت ہذا میں۔ رب العرش الکریم۔
Top