Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 117
وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ
وَ : اور مَنْ يَّدْعُ : جو پکارے مَعَ اللّٰهِ : اللہ کے ساتھ اِلٰهًا اٰخَرَ : کوئی اور معبود لَا بُرْهَانَ : نہیں کوئی سند لَهٗ : اس کے پاس بِهٖ : اس کے لیے فَاِنَّمَا : سو، تحقیق حِسَابُهٗ : اس کا حساب عِنْدَ رَبِّهٖ : اس کے رب کے پاس اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُفْلِحُ : فلاح (کامیابی) نہیں پائینگے الْكٰفِرُوْنَ : کافر (جمع)
اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے
(23:117) یدع۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب دعاء ودعوۃ مصدر (باب نصر) مجزوم بوجہ جملہ شرطیہ کے ہے اصل میں یدعوا تھا۔ من یدع جو پکارے گا (مدد کے لئے یا عبادت کے لئے) لا برھان لہ بہ۔ میں لہ یعنی پکارنے والے نزدیک۔ بہ جس کو پکارا گیا ہو اس کے حق میں۔ یعنی اس (غیر اللہ کو معبود) پکارنے والے کے پاس (اس غیر اللہ کی بابت معبود پکارنے کی) کوئی دلیل نہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں آیا ہیولا تقف ما لیس لک بہ علم (17:36) اور اس چیز کے پیچھے مت ہو لیا کر جس کی بابت تجھے (صحیح) علم نہ ہو۔ لا برھان لہ بہ۔ جملہ معترضہ ہے۔ جملہ شرطیہ اور جملہ جزا کے درمیان ۔ یا جملہ اول کی تاکید میں لایا گیا ہے۔ فانما حسابہ عند ربہ۔ جملہ جزائیہ ہے۔ انہ۔ ضمیر شان ہے ای ان الشان لا یفلح الکافرون۔ شان یہ ہے کہ کافروں کو فلاح نہیں ہونے کی۔ بیشک (حقیقت یہ ہے ۔ یقینا) حق کا انکار کرنے والے فلاح نہیں پائیں گے۔
Top