Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 21
وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهَا وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ كَثِیْرَةٌ وَّ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَۙ
وَاِنَّ : اور بیشک لَكُمْ : تمہارے لیے فِي الْاَنْعَامِ : چوپایوں میں لَعِبْرَةً : عبرت۔ غور کا مقام نُسْقِيْكُمْ : ہم تمہیں پلاتے ہیں مِّمَّا : اس سے جو فِيْ بُطُوْنِهَا : ان کے پیٹوں میں وَلَكُمْ : اور تمہارے لیے فِيْهَا : ان میں مَنَافِعُ : فائدے كَثِيْرَةٌ : بہت وَّمِنْهَا : اور ان سے تَاْكُلُوْنَ : تم کھاتے ہو
اور تمہارے لئے چارپایوں میں عبرت (اور نشانی) ہے کہ جو ان کے پیٹوں میں ہے اس سے ہم تمہیں (دودھ) پلاتے ہیں اور تمہارے لئے ان میں اور بھی بہت سے فائدے ہیں اور بعض کو تم کھاتے بھی ہو
(23:21) الانعام۔ مویشی، بھیڑ۔ بکری۔ اونٹ ۔ گائے۔ بھینس۔ یہ نعم کی جمع ہے نعم کے معنی اونٹ کے۔ انعام میں گودوسرے مویشی کو بھی شامل کرلیتے ہیں لیکن جب تک ان میں اونٹ شامل نہ ہو ان کو انعام نہیں کہا جاسکتا۔ عبرۃ۔ عبرت۔ نصیحت حاصل کرنا۔ دوسرے کے حال سے اپنا حال قیاس کرنا۔ دھیان کرنا۔ نسقیکم۔ نسقی مضارع جمع متکلم۔ اسقی یسقی اسقاء (افعال) سے ہم پلاتے ہیں۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم تمہیں پلاتے ہیں۔ بطونھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب انعام کی طرف راجع ہے اور اس آیت میں اور اگلی آیت 22 میں ھا اسی معنی میں ہے۔ تحملون۔ مضارع مجہول۔ جمع مذکر حاضر۔ حمل مصدر (باب ضرب) تم اٹھائے جاتے ہو۔ تم سوار کئے جاتے ہو۔ تم لدے پھرتے ہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ الانعام سے مراد یہاں اونٹ لیا گیا ہے جس پر اہل عرب سوار ہو کر طویل سفر طے کیا کرتے تھے اور بوجھ کی نقل و حرکت بھی اونٹ کے ذریعہ ہوتی تھی۔ پھر الفلک کا قرینہ اس بات کو اور تقویت دیتا ہے۔ عرب اونٹ کو سفینۃ البر (ریگستان کا جہاز) بولتے ہیں۔ ویسے دوسرے مویشیوں مثلاً بیل وبھینس سے بھی باربرداری کا کام لیا جاسکتا ہے۔
Top