Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 67
مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ
مُسْتَكْبِرِيْنَ : تکبر کرتے ہوئے بِهٖ : اس کے ساتھ سٰمِرًا : افسانہ کوئی کرتے ہوئے تَهْجُرُوْنَ : بیہودہ بکواس کرتے ہوئے
ان سے سرکشی کرتے، کہانیوں میں مشغول ہوتے اور بےہودہ بکواس کرتے تھے
(23:27) مستکبرین۔ تنکصون سے حال ہے۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ باب استفعال ۔ اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والے۔ مغرور۔ بہ۔ میں ب سببیہ ہے اور ضمیر ہ بیت العتیق یا حرم کے لئے ہے۔ مستکبرین بہ۔ کعبہ شریف کی تولیت و خدمت کی وجہ سے فخرو تکبر کرنے والے (یہ اہل قریش تھے) ۔ سمرا۔ السمر۔ اصل میں رات کی تاریکی کو کہتے ہیں اور اسی سے محاورہ ہے لا اتیک السمر والقمر۔ کہ میں تیرے پاس کبھی نہیں آئوں گا (رات کی تاریکی ہو یا چاند کی چاندنی) پھر رات کو باتیں کرنے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اور سمر فلان کے معنی ہیں اس نے رات کو باتیں کیں۔ سامرا۔ کہانی سنانے والا۔ افسانہ گو ! دستاں سرا۔ سمر مصدر۔ سمر یسمر (نصر) (رات کو باتوں میں گذارنا اور نہ سونا) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ہے یا الحاج۔ الحاضر، الجاہل ، الباقر کی طرف اسم جمع ہے۔ سمرا یہاں حال ہے ۔ چاہیے تو یہ تھا کہ سمرین ہوتا تاکہ ذوالحلال سے مطابقت ہوتی۔ لیکن یہ اسم مفرد ہے اور جمع کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ تھجرون۔ ھجر یھجر (نصر) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے ھجر کے معنی ہیں نامناسب کلام کرنا۔ بدگوئی کرنا۔ بکواس کرنا۔ مستکبرین بہ سمرا تھجرون۔ (خانہ کعبہ کی تولیت و خدمت پر) تکبرو فخر کرتے ہوئے ساری ساری رات (صحن حرم میں) ہزرہ سرائی میں گذار دیتے ہیں۔ یہ سارا جملہ تنکصون سے حال ہے۔
Top