Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 75
وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ
وَلَوْ : اور اگر رَحِمْنٰهُمْ : ہم ان پر رحم کریں وَكَشَفْنَا : اور ہم دور کردیں مَا بِهِمْ : جو ان پر مِّنْ ضُرٍّ : جو تکلیف لَّلَجُّوْا : ارے رہیں فِيْ : میں۔ پر طُغْيَانِهِمْ : اپنی سرکشی يَعْمَهُوْنَ : بھٹکتے رہیں
اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیفیں ان کو پہنچ رہی ہیں وہ دور کردیں تو اپنی سرکشی پر اڑے رہیں (اور) بھٹکتے (پھریں )
(23:75) ولو رحمناہم۔ اور اگر ہم ان پر رحم (بھی) کریں۔ وکشفنا مابہم من ضر۔ اور (اگر ہم) ان کو جو تکلیف ہے وہ بھی دور کردیں۔ للجوا۔ لجاج ولجاجۃ سے (سمع۔ ضرب) سے ماضی بمعنی مضارع۔ صیغہ جمع مذکر غائب۔ لجاج کسی ممنوع فعل پر اڑ جانے کو کہتے ہیں۔ للجوا۔ وہ ضرور اڑے رہیں گے۔ جمے رہیں گے۔ مصر رہیں گے۔ للجوا فی طغیانہم۔ اپنی گمراہی پر جمے رہیں گے۔ یعمھون عمہ یعمہ (فتح) عمہ یعمہ (سمع) سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ عمہ عموہ۔ مصدر۔ گمراہی میں بھٹکنا۔ للجوا فی طغیانہم یعمھو۔ پھر بھی یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھٹکنے میں اصرار کرتے رہیں گے۔ ما استکانوا۔ ما نفی کے لئے ہے۔ (استکانوا) ماضی جمیع مذکر غائب۔ باب افتعال۔ سکن مادہ۔ استکان یستکین استکان واستکانۃ عاجزو ذلیل ہونا مسکین عاجز۔ وما یتضرعون۔ اور نہ انہوں نے عاجزی کی۔ صیغہ جمع مذکر غائب فعل مضارع معروف ۔ تضرع (تفعل) سے۔ استکانت اور تضرع مرادف نہیں اول کا تعلق ظاہر سے ہے اور ثانی کا قلب سے ہے۔
Top