Anwar-ul-Bayan - Al-Muminoon : 96
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ
اِدْفَعْ : دفع کرو بِالَّتِيْ : اس سے جو هِىَ : وہ اَحْسَنُ : سب سے اچھی بھلائی السَّيِّئَةَ : برائی نَحْنُ : ہم اَعْلَمُ : خوب جانتے ہیں بِمَا : اس کو جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
اور بری بات کے جواب میں ایسی بات کہو جو نہایت اچھی ہو اور یہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہمیں خوب معلوم ہے
(23:96) ادفع۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تو دور کر۔ دفع یدفع (فتح) دفع مصدر سے۔ دفع کا تعدیہ جب الیٰ سے ہو تو دینے کے معنی ہوتے ہیں اور جب عن سے ہو تو اس کے معنی حفاظت کرنے اور حمایت کے ہوتے ہیں۔ مثلاً فادفعوا الیہم اموالہم (4:6) تو ان کا مال ان کے حوالہ کر دو ۔ اور ان اللہ یدافع عن الذین امنوا (22:38) خدا تو مومنوں کی (ان کے دشمنوں سے) حفاظت کرتا رہتا ہے۔ احسن۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ بہت اچھا۔ السیئۃ برائی۔ گناہ۔ فعل بد۔ یہ حسنۃ کی ضد ہے۔ س و ء حروف مادہ یہ فیعلۃ کے وزن پر سیوأۃ تھا۔ عین کلمہ کے وائو کو ی سے بدلا۔ ی کو ی میں مدغم کیا۔ سیئۃ ہوگیا۔ السیئۃ ادفع کا مفعول ہے۔ عبارت کچھ یوں تھی۔ ادفع بالحسنۃ التیھی احسن الحسنات التی یدفع بھا السیئۃ۔ (ان (کافروں) کی برائی کا دفعیہ ایسی نیکی سے کرو جو بہترین ہو۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد فرمایا۔ خذ العفو وامر بالعرف واعرج عن الجاھلین (7:199) در گذر اختیار کیجئے۔ اور نیک کام کا حکم دیجئے۔ اور جاہلوں سے کنارہ کش ہوجایا کیجئے۔ یصفون۔ مضارع جمع مذکر غائب وصف مصدر (باب ضرب) (جو) وہ بیان کرتے ہیں۔
Top