Anwar-ul-Bayan - Al-Ahzaab : 20
یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠   ۧ
يَحْسَبُوْنَ : وہ گمان کرتے ہیں الْاَحْزَابَ : لشکر (جمع) لَمْ يَذْهَبُوْا ۚ : نہیں گئے ہیں وَاِنْ يَّاْتِ : اور اگر آئیں الْاَحْزَابُ : لشکر يَوَدُّوْا : وہ تمنا کریں لَوْ اَنَّهُمْ : کہ کاش وہ بَادُوْنَ : باہر نکلے ہوئے ہوتے فِي الْاَعْرَابِ : دیہات میں يَسْاَلُوْنَ : پوچھتے رہتے عَنْ : سے اَنْۢبَآئِكُمْ ۭ : تمہاری خبریں وَلَوْ : اور اگر كَانُوْا : ہوں فِيْكُمْ : تمہارے درمیان مَّا قٰتَلُوْٓا : جنگ نہ کریں اِلَّا : مگر قَلِيْلًا : بہت کم
(خوف کے سبب سے) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں رہیں (اور) تمہاری خبریں پوچھا کریں اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم
(33:20) یحسبون۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ حسبان (باب سمع) مصدر۔ وہ گمان کرتے ہیں۔ وہ خیال کرتے ہیں۔ ضمیر فاعل کا مرجع وہ لوگ ہیں جن کی برائیاں اوپر مذکور ہوئیں۔ لم یذھبوا۔ مضارع نفی جحد بلم۔ وہ نہیں گئے۔ یحسبون الاحراب لم یذھبوا۔ (دشمن بھاگ گئے لیکن یہ بزدل یہی) خیال کرتے ہیں کہ (دشمنوں کے) جتھے ابھی نہیں گئے۔ یات۔ مضارع واحد مذکر غائب (اگر ب تعدیہ مفعول پر ہو تو فعل متعدی ہوگا) اتیان (باب ضرب) مصدر۔ یات اصل میں یاتی تھا۔ ان شرطیہ کی وجہ سے مضارع مجزوم ہوکر یاء کو حذف کیا گیا۔ ان یات اگر وہ (دوبارہ پکٹ کر) آجائیں۔ یودوا مضارع مجزوم (بوجہ جزائ) جمع مذکر غائب مودۃ مصدر۔ وہ آرزو کریں گے۔ وہ خواہش کریں گے۔ وہ چاہیں گے۔ لو۔ کاش۔ بادون : باد کی جمع ہے اسم فاعل کا صیغہ جمع مزکر۔ بداوۃ سے جس کے معنی صحرا میں اقامت اختیار کرنے کے ہیں۔ باویہ نشین۔ باہر والے ۔ صحرا نشین۔ البدو حضر کی ضد ہے۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے وجاء کم من البدو (12:100) آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بدو بمعنی بادیۃ (صحرا) ہے۔ بدا یبدوا بدو و بدا کے معنی نمایاں اور ظاہر آئیں۔ اسے بدو (بادیۃ) کہا جاتا ہے۔ اور البادی کے معنی صحرا نشین کے ہیں۔ الاعراب : سلکان البادیۃ خاصۃ والواحد منھم الاعرابی صحرا کے رہنے والوں کو الاعراب کہتے ہیں اس کی واحد الاعرابی ہے اس کے مقابلہ میں جو عرب شہروں میں بشنے والے ہوں ان کو عربی کہتے ہیں۔ یودوا لو انھم بادون فی الاعراب۔ وہ یہ چاہیں گے کہ کاش وہ صحرا میں بسنے والے بدوؤں میں ہوتے (جہاں دشمن کے حملے سے بچے رہتے) ۔ یسئلون عن انبائکم یہ جملہ فاعل بادون سے حال ہے۔ (وہاں سے ہی آنے جانے والوں سے دریافت کرتے ہیں کہ الاحزاب کے ہاتھوں تمارا کیا حال ہوا ، اپنی بزدلی کی وجہ سے ان میں قتل و قتال کو اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرنے کے بھی ہمت نہ تھی چہ جائے کہ اس قتال میں وہ خود حصہ لیتے)
Top