Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 10
وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ
وَمَا : اور جو بھی اخْتَلَفْتُمْ : اختلاف کیا تم نے فِيْهِ : اس میں مِنْ شَيْءٍ : کسی چیز میں سے فَحُكْمُهٗٓ : تو اس کا فیصلہ کرنا اِلَى اللّٰهِ : طرف اللہ کے ہے ذٰلِكُمُ اللّٰهُ : یہ ہے اللہ رَبِّيْ : رب میرا عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ : اسی پر میں نے بھروسہ کیا وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف اُنِيْبُ : میں رجوع کرتا ہوں
اور تم جس بات میں اختلاف کرتے ہو اس کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہو (گا) یہی خدا میرا پروردگار ہے میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
(42:10) وما اختلفتم فیہ من شیئ : ما موصولہ ہے فیہ : ہ ضمیر واحد مذکر غائب اسم موصول کی طرف راجع ہے۔ جس بات میں۔ اور کسی شے میں تمہارے درمیان جس بات کا اختلاف ہوجائے ۔ یعنی دین اور دنیا میں کہیں بات پر اختلاف ہو۔ فحکمہ الی اللّٰہ۔ تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ان الحکم الا اللّٰہ علیہ توکلت (12: 67) (بےشک) حکم اسی کا ہے میں اس پر بھروسہ کرتا ہوں۔ اور دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ فان تنازعتم فی شیء فردوہ الی اللّٰہ والرسول (4:59) اور اگر کسی بات پر تم میں اختلاف ہوجائے تو اس میں خدا اور خدا کے رسول (کے حکم کی طرف) رجوع کرو۔ ذلکم : ذا اسم اشارہ ہے اور کم حرف خطاب جمع مذکر حاضر کے لئے ہے۔ یہ۔ یہی۔ اس سے قبل قل محذوف ہے ای قل یا محمد ﷺ ۔ اے محمد ﷺ کہہ دیجئے ذلکم اللّٰہ ربی ۔۔ الخ۔ الیہ انیب۔ میں رجوع کرتا ہوں انابۃ (افعال) مصدر سے مضارع کا صیغہ واحد متکلم۔ الیہ اس کی طرف ہ ضمیر واحد مذکر گا ئب اللہ کی طرف راجع ہے۔
Top