Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 16
وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ
وَالَّذِيْنَ يُحَآجُّوْنَ : اور وہ لوگ جو جھگڑتے ہیں فِي اللّٰهِ : اللہ کے بارے میں مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے مَا اسْتُجِيْبَ : جو لبیک کہہ دی گئی لَهٗ : اس کے لیے حُجَّتُهُمْ : ان کی حجت بازی دَاحِضَةٌ : زائل ہونے والی ہے۔ کمزور ہے۔ باطل ہے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے نزدیک وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ : اور ان پر غضب ہے وَّلَهُمْ عَذَابٌ : اور ان کے لیے عذاب ہے شَدِيْدٌ : سخت
اور جو لوگ (خدا کے بارے میں) بعد اس کے کہ اسے (مومنوں نے) مان لیا ہے جھگڑتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے اور ان پر (خدا کا) غضب اور ان کے لئے سخت عذاب ہے
(42:16) یحاجون : مضارع جمع مذکر غائب محاجۃ (مفاعلۃ) مصدر وہ جھگڑتے ہیں وہ جحت کرتے ہیں۔ وہ بحث کرتے ہیں۔ فی اللّٰہ۔ یعنی اللہ کے دین و شریعت کے باب میں ۔ یعنی جو لوگ اللہ کے باب (یعنی اس کے دین و شریعت کے باب میں) مسلمانوں سے جھگڑا کرتے رہتے ہیں۔ من بعد ما میں ما زائدہ ہے۔ تاکید کے لئے آیا ہے۔ استجیب لہ۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب استجابۃ (استفعال) قبول کرنا۔ مان لینا۔ اسے مان لیا گیا۔ اسے قبول کرلیا گیا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع یا تو الدین ہے ۔ جس کی دعوت کے لئے رسول کریم ﷺ کو استقامت کے لئے حکم دیا گیا۔ یعنی بعد اس کے کہ لوگوں نے اس کی دعوۃ الی الدین قبول کرلی۔ یا رسول اللہ ﷺ کی ذات ہے یعنی بعد اس کے کہ وہ رسول ﷺ مان لئے گئے۔ حجتھم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کی حجت، ان کی بحث۔ واحضۃ : اسم فاعل واحد مؤنث۔ باطل ۔ گرنے والی۔ زائل ہونے والی۔ (دلیل) دحض (باب فتح) مصدر۔ جس کا مطلب ہے پاؤں کا پھسلنا۔ اور ٹھوکر کھا کر گرنا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے ویجادل الذین کفروا بالباطل لیدحضوا بہ الحق (18:56) اور جو کافر ہیں وہ باطل (سے استدلال کرکے) جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو اس کے مقام سے پھسلا دیں۔ حجتھم داحغۃ عند ربھم۔ ان کے پروردگار کے نزدیک ان کی دلیل بالکل بودی ہے۔ ہم کی ضمیر الذین کی طرف راجع ہے۔ مکمل جملہ کا ترجمہ ہوگا :۔ جو لوگ اللہ کے دین کے بارے میں ازان بعد کہ (اکثر حق شناس) اس کو مان بھی چکے ہیں حجت بازی کرتے ہیں ان کے پروردگار کے نزدیک ان کی دلیل بالکل بودی ہے۔ وعلیہم غضب : جملہ معطوفہ ہے اور اسی طرح ولہم عذاب شدید۔
Top