Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 28
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يُنَزِّلُ : جو اتارتا ہے الْغَيْثَ : بارش کو مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ قَنَطُوْا : وہ مایوس ہوگئے وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ : اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو وَهُوَ : اور وہ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ : کارساز ہے۔ دوست ہے، تعریف والا ہے
اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت (یعنی بارش) کی برکت کو پھیلا دیتا ہے اور وہ کارساز اور سزاوار تعریف ہے
(42:28) ینزل ملاحظہ ہو آیت سابقہ۔ الغیث : بارش۔ غاث یغیث غیث (باب ضرب) مصدر۔ اجوف یائی ہے۔ یہ فعل متعدی ہے۔ کہا جاتا ہے غاثنی : اس نے مجھ پر بارش کی۔ اس کے مشابہ لفظ غوث ہے جو اجوف دادی ہے۔ غوث سے اغاث یغیث (باب افعال) ماضی و مضارع آتا ہے۔ باب استفعال میں پہنچ کر دونوں کی شکل ظاہری ایک ہوجاتی ہے یعنی استغاث یستغیث مدد طلب کرنا۔ یا بارش طلب کرنا۔ قرآن مجید کی آیت وان یستغیثوا یغاثوا بماء کالمہل (18:29) میں دونوں معنی کا احتمال ہے یعنی جب دوزخی مدد طلب کریں یا پانی مانگیں گے تو پگھلے ہوئے تانبے کا پانی ان کو دیا جائے گا۔ یا پگھلے ہوئے تابنے کا پانی دے کر ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ یغاثوا فعل مجہول جمع مذکر غائب میں دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ مدد طلب کرنے کی صورت میں یہ اغاث (باب افعال) سے ہوگا اور دوسری صورت میں غاث یغیث (ضرب) سے۔ قنطوا ماضی جمع مذکر غائب قنوط اگرچہ جملہ ابواب اس سے مستعمل ہیں لیکن اعلیٰ یہی ہے کہ اس کو باب ضرب سے قرار دیا جائے کیونکہ من بعد ما قنطوا (آیت ہذا) میں ماضی فتح عین سے اور من یقنط (15:56) زیر سے ہے یا زبر سے (لیکن عام نسخہ جات میں یہ عین کلمہ کے زیر سے ہے اس صورت میں ماضی اور مضارع کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ باب فتح سے ہوگا) ۔ قنطوا وہ ناامید ہوگئے۔ ینشر : مضارع واحد مذکر غائب نشر (باب نصر) مصدر۔ وہ پھیلاتا ہے۔ پھیلائے گا۔ الولی ولایۃ (باب ضرب) سے مصدر فعیل کے وزن پر صفت مشبہ کا صیغہ ہے کارساز۔ دوست۔ مددگار۔ الحمید۔ ستودہ۔ صفات کیا گیا۔ سراہا ہوا۔ حمد باب سمع مصدر سے بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے بمعنی محمود سے اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی سے ہے کیونکہ وہی حقیقی طور پر مستحق حمد ہے۔
Top