Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 29
وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠   ۧ
وَمِنْ اٰيٰتِهٖ : اور اس کی نشانیوں میں سے ہے خَلْقُ السَّمٰوٰتِ : پیدائش آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی وَمَا : اور جو بھی بَثَّ فِيْهِمَا : اس نے پھیلا دیے ان دونوں میں مِنْ دَآبَّةٍ : جانوروں میں سے ۭ وَهُوَ : اور وہ عَلٰي : پر جَمْعِهِمْ : ان کے جمع کرنے (پر) اِذَا يَشَآءُ : جب بھی وہ چاہے ۔ چاہتا ہے قَدِيْرٌ : قدرت رکھنے والا ہے
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے
(42:29) وما بث فیہما۔ جملہ معطوف ہے اس کا عطف السموت پر ہے ما موصولہ ہے بث ماضی واحد مذکر غائب بث (باب نصر و ضرب) مصدر۔ اس نے بکھیر دیا۔ اس نے پھیلا دیا۔ اصل میں بث کے معنی کسی چیز کے پراگندہ کرنے اور ابھارنے کے ہیں۔ اسی لئے ہوا سے خاک اڑنے، غم سے بےقرار ہوجانے اور راز کے افشاء کرنے کے لئے بث کا استعمال ہوتا ہے۔ دابۃ۔ جانور۔ چلنے والا۔ پاؤں دھرنے والا۔ رینگنے والا۔ دب ودبب (باب ضرب) سے اسم فاعل کا صیغہ مذکر و مؤنث دونوں کے لئے مستعمل ہے اس کی جمع دواب ہے اگرچہ عرف یہ لفظ گھوڑے کے لئے مخصوص ہے مگر سب جانوروں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ اور قرآن مجید میں جو لفظ دابۃ آیا ہے تو اس میں ہر ایک حیوان داخل ہے۔ مثلا وبث فیہما من کل دابۃ (2:164) اور اس نے زمین پر ہر قسم کے جانور پھیلائے ہیں۔ فیہما میں ھما ضمیر تثنیہ مذکر و مؤنث غائب السموت والارض کے لئے آیا ہے۔ اذا یشاء میں اذا متعلقہ اجمعھم ہے ۔ یعنی وہ جب بھی ان کو جمع کرنا چاہے۔ قدیر قدرۃ سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ قدرت والا ہے۔ زبردست خداوند تعالیٰ کے اسماء حسنی سے ہے۔
Top