Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 3
كَذٰلِكَ یُوْحِیْۤ اِلَیْكَ وَ اِلَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكَ١ۙ اللّٰهُ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
كَذٰلِكَ : اسی طرح يُوْحِيْٓ اِلَيْكَ : وحی کرتا رہا ہے آپ کی طرف وَاِلَى : اور طرف الَّذِيْنَ : ان لوگوں کے مِنْ قَبْلِكَ : آپ سے قبل اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ : اللہ تعالیٰ غالب، حکمت والا
خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے
(42:3) کذلک۔ ک حرف تشبیہ ہے ذلک اسم اشارہ واحد مذکر ہے۔ مشار الیہ سورة ہذا۔ تشبیہ کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) معانی کے لحاظ سے یعنی جو مطلب و معانی اس صورت میں مذکور ہیں انہیں مطالب و معانی پر مبنی کلام آپ کی طرف بھی وحی ہوتے ہیں اور آپ سے قبل دیگر رسولوں پر بھی نازل ہوتے رہے ہیں۔ ای یوحی مثل ما فی ھذہ السورۃ من المعانی۔ (2) تشبیہ فی المعنی المصدری الذی ھو الایحائ۔ یعنی جس طرح یہ سورة بذریعہ وحی آپ پر نازل ہوئی ہے اسی طرح دوسری سورتیں بھی آپ پر نازل ہوئی ہیں اور یہی وحی آپ سے قبل رسل پر بھی نازل ہوتی رہی ہے مطلب یہ کہ جس طرح یہ سورة بذریعہ وحی آپ پر نازل ہوئی ہے اس طرح وہ تجھ پر اور تجھ سے پہلے پیغمبروں پر بذریعہ وحی اپنا کلام نازل کرتا آیا ہے۔ کذلک مثل ذلک الایحاء (بیضاوی ، کشاف) یوحی : وہ وحی کرتا ہے۔ مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ یہاں مضارع کا صیغہ بمعنی حکایت حال ماضی۔ وحی کے استمرار کی دلیل کے لیے لایا گیا ہے ۔ یعنی یہ دستور الٰہیہ (وحی کے ذریعہ اپنے رسولوں کو کلام نازل فرمانا) کوئی نیا نہیں ہے بلکہ ماضی میں بھی اللہ تعالیٰ کا یہی دستور رہا ہے۔ اللّٰہ : فاعل یوحی کا اور العزیز الحکیم اس کے صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی طرف وحی کرنے کے بعد اور جگہ بھی ان دو اسماء سے اپنی ثناء کی ہے۔ مثلا آیت 4:165 ۔ یہاں آیت 4:164 سے ارشاد ہوتا ہے کہ انا اوحینا الیک کما اوحینا الی نوح والنبین من بعدہ ۔۔ اور آیت 165 کے اختتام پر اس مضمون کے بیان کرنے کے بعد ارشاد ہے وکان اللّٰہ عزیزا حکیما۔
Top