Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے
(42:30) وما اصابکم من مصیبۃ فیما کسبت ایدیکم : ما اسم موصول مبتداء اصابکم من مصیبۃ اس کا صلہ۔ جب مبتداء اسم موصول ہو اور اس صلہ جملہ فعلیہ ہو تو اس کی خبر پر اکثرلاتے ہیں کیونکہ اس (ما) کے اندر شرط کے معنی پائے جاتے ہیں اسی وجہ سے یہاں خبر پراستعمال ہوا ہے۔ اصابکم : اصاب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر اصابۃ (افعال) مصدر۔ تم کو پہنچے۔ تم کو پہنچا۔ تم کو پیش آیا۔ من مصیبۃ جار مجرور۔ کوئی مصیبت۔ بما میں ب سببیہ ہے اور ما موصولہ ہے ۔ یہ سبب (اس گناہ کے) جو تمہارے ہاتھوں نے کیا۔ کسبت : ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ کسب (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی گناہ اٹھانا کمانا۔ حاصل کرنا۔ ایدیکم مضاف مضاف الیہ۔ تمہارے ہاتھ۔ یعفوا عن کثیر یعفوا مضارع واحد مذکر غائب۔ عفو (باب نصر) مصدر وہ معاف کردیتا ہے۔ کثیر : ای کثیر من الذنوب۔ اکثر گناہ۔
Top