Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 34
اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘
اَوْ يُوْبِقْهُنَّ : یا ہلاک کردے ان کو بِمَا كَسَبُوْا : بوجہ اس کے جو انہوں نے کمائی کی وَيَعْفُ : اور وہ معاف کردیتا ہے۔ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
یا ان کے اعمال کے سبب ان کو تباہ کر دے اور بہت سے قصور معاف کر دے
(42:34) او یوبقھن بما کسبوا۔ ای او ان یشاء یوبقھن بما کسبوا ۔ او حرف عطف۔ یوبق مضارع مجزوم (جواب شرط کی وجہ سے) واحد مذکر غائب۔ ایباق (افعال) مصدر وبق مادہ۔ وہ ہلاک کر دے وبق (باب ضرب) بمعنی ضعیف اور گراں ہوکر ہلاک ہونا۔ موبق اسم ظرف مکان۔ ہلاک ہونے کی جگہ جیسے کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وجعلنا بینھم موبقا (18:52) اور ہم ان کے بیچ میں ہلاکت کی جگہ بنادیں گے۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب کا مرجع الجوار ہے (اور اگر وہ چاہے تو ان کی کرتوتوں کے سبب ان کو ہلاک کر دے) ۔ اس جملہ کا عطف سابقہ جملہ ان یشا یسکن الریح پر ہے۔ ویعف عن کثیر : یہ جملہ معترضہ ہے یا اس کا عطف سابق جملہ ان یشا یسکن الریح پر ہے۔ یعنی اگر وہ چاہے تو ہوا کو روک دے کہ جہاز کھڑے رہ جائیں۔ یا طوفان بھیج دے کہ جہاز تباہ ہوجائیں اور آدمی ڈوب جائیں۔ یا موافق ہوائیں چلاتا رہے اور کثیر لوگوں سے درگزر فرمائے ۔ (مظہری) یعف مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط ۔ واحد مذکر غائب کا صیغہ نیز ملاحظہ ہو 42:30 متذکرۃ الصدر۔
Top