Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 36
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ
فَمَآ اُوْتِيْتُمْ : پس جو بھی دیے گئے تم مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : تو سامان ہے الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی کا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ : اور جو اللہ کے پاس ہے خَيْرٌ : بہتر ہے وَّاَبْقٰى : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ توکل کرتے ہیں
(لوگو ! ) جو (مال و متاع) تم کو دیا گیا ہے وہ دنیا کی زندگی کا (ناپائدار) فائدہ ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ بہتر اور قائم رہنے والا ہے (یعنی) ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ رکھتے ہیں
(42:36) فما اوتیتم من شیءعاطفہ۔ ما موصولہ متضمن یہ شرط فمتاع الحیوۃ الدنیا میںجواب شرط کے لئے ہے جملہ اول شرط ۔ جملہ ثانی جواب شرط۔ پس جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کا (ناپائدار) سامان ہے۔ وما عند اللّٰہ خیر وابقی : واؤ عاطفہ۔ ماعند اللّٰہ ما موصولہ بمع صلہ۔ دونوں مل کر مبتدا خیر وابقی خبر۔ اور (آخرت میں) جو (ثواب) اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور سدا رہنے والا ہے۔ ابقی بقاء (باب سمع) سے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ دیر تک رہنے والا جب یہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہو تو اس کا معنی ” سدا رہنے والا “ ہوگا۔ للذین امنوا۔ خبر مبتدا محذوف : ای ذلک للذین امنوا۔ یہ ثواب ان کے لئے ہے جو ایمان لائے۔ وعلی ربھم یتوکلون ۔ اس کا عطف الذین امنوا پر ہے۔ یتوکلون مضارع جمع مذکر غائب۔ توکل (تفعل) مصدر۔ وہ بھروسہ رکھتے ہیں ۔ وہ توکل کرتے ہیں۔
Top