Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ يَجْتَنِبُوْنَ : جو بچتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ : بڑے گناہوں سے وَالْفَوَاحِشَ : اور بےحیائی کی باتوں سے وَاِذَا مَا غَضِبُوْا : اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں هُمْ يَغْفِرُوْنَ : تو وہ درگزر کرجاتے ہیں۔ معاف کرجاتے ہیں
اور جو بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کی باتوں سے پرہیز کرتے ہیں اور جب غصہ آتا ہے تو معاف کردیتے ہیں
(42:37) والذین یجتنبون کبئر الاثم والفواحش : اس کا عطف بھی الذین امنوا پے ہے۔ یجتنبون مضارع جمع مذکر غائب۔ اجتناب (افتعال) مصدر وہ پرہیز رکھتے ہیں ۔ کبئر جمع کبیرۃ کی صفت مشبہ جمع مؤنث مضاف الاثم (گناہ) مضاف الیہ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول یجتنبون کا۔ الفواحش ، فاحشۃ کی جمع مفعول ثانی۔ اور جو لوگ بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں بیحیائیوں سے بچے رہتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں۔ فائدہ : حدیث شریف میں مندرجہ ذیل گناہ کبیرہ بیان ہوئے ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ کسی پر جادو کرنا۔ قتل ناجزئ۔ سود خوری۔ یتیم کا مال کھانا۔ جہاد سے بھاگنا۔ پاکدامنوں پر تہمت لگانا۔ (متفق علیہ) فواحش میں مندرجہ ذیل مندرج ہیں۔ زنا۔ لواطت۔ بےشرمی کی باتیں۔ اذا ما۔ جب ۔ جب کبھی۔ شرطیہ ہے۔ غضبوا۔ ماضی جمع مذکر غائب غضب (باب سمع) مصدر۔ وہ غضبناک ہوتے ہیں ۔ اذا ما غضبوا جملہ شرط ہے یہ بھی الذین امنوا پر معطوف ہے۔ ہم یغفرون : جملہ جواب شرط ہے۔ ہم مبتدا۔ یغفرون خبر۔ اذا ما ۔۔ کا عطف بھی الذی امنوا پر ہے۔
Top