Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 21
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ؕ اِنْ عَلَیْكَ اِلَّا الْبَلٰغُ١ؕ وَ اِنَّاۤ اِذَاۤ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً فَرِحَ بِهَا١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ كَفُوْرٌ
فَاِنْ : پھر اگر اَعْرَضُوْا : وہ اعراض برتیں فَمَآ اَرْسَلْنٰكَ : تو نہیں بھیجا ہم نے آپ کو عَلَيْهِمْ : ان پر حَفِيْظًا : نگہبان بنا کر اِنْ عَلَيْكَ : نہیں آپ کے ذمہ اِلَّا الْبَلٰغُ : مگر پہنچا دینا وَاِنَّآ : اور بیشک ہم اِذَآ : جب اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ : چکھاتے ہیں ہم انسان کو مِنَّا : اپنی طرف سے رَحْمَةً : کوئی رحمت فَرِحَ بِهَا : خوش ہوجاتا ہے وہ اس پر وَاِنْ تُصِبْهُمْ : اور اگر پہنچتی ہے ان کو سَيِّئَةٌۢ : کوئی تکلیف بِمَا قَدَّمَتْ : بوجہ اس کے جو آگے بھیجا اَيْدِيْهِمْ : ان کے ہاتھوں نے فَاِنَّ الْاِنْسَانَ : تو بیشک انسان كَفُوْرٌ : سخت، ناشکرا
پھر اگر یہ منہ پھیر لیں تو ہم نے تم کو ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجا تمہارا کام تو صرف (احکام کا) پہنچا دینا ہے اور جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اس سے خوش ہوجاتا ہے اور اگر ان کو ان ہی کے اعمال کے سبب کوئی سختی پہنچتی ہے تو (سب احسانوں کو بھول جاتا ہے) بیشک انسان بڑا ناشکرا ہے
(42:48) فان اعرضوا جملہ شرط ہے۔ فما ارسلنک علیہم حفیظا جواب شرط ۔ اعرضوا۔ ماضی جمع مذکر غائب اعراض (افعال) مصدر ۔ منہ پھیرلینا۔ اور اگر وہ لوگ (یہ سن کر) پھر بھی منہ پھیر لیں۔ حفیظا۔ نگہبان۔ حفاظت کرنے والا۔ منصوب بوجہ تمیز۔ ان علیک میں ان نافیہ ہے۔ الا حرف استثنائ۔ البلاغ : مصدر ہے یہ لفظ قرآن مجید میں بمعنی تبلیغ آتا ہے۔ البلاغ والبلوغ (باب نصر) کے معنی مقصد اور منتہی کے آخری حد تک پہنچنے کے ہیں۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچ جانے کے لئے بھی بولا جاتا ہے گو انتہاء تک نہ بھی پہنچا ہو۔ انتہاء تک پہنچنے کے معنی میں فرمایا :۔ حتی اذا بلغ اشدہ وبلغ اربعین سنۃ (46:15) یہاں تک کہ جب خوب جوان ہوتا ہے اور چالیس برس کو پہنچ جاتا ہے۔ اور ام لکم ایمان علینا بالغۃ (68:39) یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو ۔۔ چلی جائیں گی۔ یہاں بالغۃ سے مراد انتہائی مؤکد قسمیں ہیں۔ بلاغ بمعنی پیغام جیسے ھذا بلاغ للناس (14:52) یہ (قرآن) لوگوں کے نام (خدا کا) پیغام ہے۔ اور بلاغ کے معنی کافی ہونا بھی ہیں جیسے ان فی ھذا لبلاغا لقوم عابدین (21:106) عبادت کرنے والے لوگوں کے لئے اس میں (خدا کے حکموں کی) پوری تبلیغ ہے۔ وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ جملہ شرط فرح بھا جواب شرط۔ اذ شرطیہ : اذقنا ماضی جمع متکلم اذاقۃ (افعال) مصدر۔ ہم نے چکھایا۔ ذوق مادہ۔ رحمۃ مفعول فعل اذقنا کا۔ فرح ماضی واحد مذکر غائب ، وہ خوش ہوا۔ یا خوش ہوجاتا ہے۔ بھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع رحمۃ ہے رحمۃ سے مراد دنیاوی نعمتیں ہیں مثلا دولت ، صحت وغیرہ۔ وان تصبھم سیئۃ بما قدمت ایدیہم شرط۔ ینسی النعمۃ راسا ویذکر البلیۃ ویستعظمھا (جواب شرط محذوف) فان الانسان کفور۔ علت جزائ۔ ان شرطیہ تصبھم مضارع مجزوم بوجہ شرط واحد مؤنث غائب ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الانسان ہے (الانسان سے مراد جنس انسان ہے لہٰذا یہاں ہم جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے) اصابۃ (افعال) مصدر۔ ان کو پہنچے یا پہنچتی ہے۔ سیئۃ تکلیف، مصیبت از قسم قحط، بیماری ، تنگی، مفلسی وغیرہ۔ بما میں ب سببیہ ہے ما موصولہ قدمت ایدیہم اس کا صلہ۔ قدمت ماضی واحد مؤنث غائب تقدیم (تفعیل) مصدر۔ اس نے آگے بھیجا۔ کفور صفت مشبہ کا صیغہ ہے سخت ناشکرا۔ الکفر سے۔ فرح اور کفور لفظا واحد کے صیغے ہیں اور معنی جمع آئے ہیں مطلب یہ کہ جب انسان کو اللہ کی طرف سے رحمت عطا ہوتی ہے تو اترا جاتا ہے لیکن جب کوئی دکھ آتا ہے جو اس کی اپنی کرتوتوں کا نتیجہ ہوتا ہے رحمت اور عنایت کو سرے سے بھول جاتا ہے اور سب کا انکار کرنے لگتا ہے مصیبت کا بار بار ذکر کرتا ہے اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور غور نہیں کرتا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ صاحب تفسیر مظہری رقمطراز ہیں :۔ اذا (جب) عربی زبان میں اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کوئی بات ثابت شدہ اور محقق ہو۔ نعمت عطا فرمانا اور اس کا مزہ چکھانا اللہ تعالیٰ کی رحمت ذاتیہ کا اقتضا اور اس کا معمول ہے۔ کسی شک کی اس میں گنجائش ہی نہیں ہے۔ اس لئے اذقنا کے ساتھ لفظ اذ استعمال کیا لیکن مصیبت کا آنا بتقاضائے رحمت نہیں نہ اللہ کا یہ دستور ہی ہے کہ (بےوجہ، بغیر جرم کے) مصیبت میں مبتلا کر دے۔ اس لئے تصبھم کے ساتھ لفظ ان (اگر ۔ جو شک کے لئے آتا ہے) استعمال کیا۔
Top