Anwar-ul-Bayan - Ash-Shura : 9
اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠   ۧ
اَمِ : یا اتَّخَذُوْا : انہوں نے بنا رکھا ہے مِنْ دُوْنِهٖٓ : اس کے سوا اَوْلِيَآءَ : کچھ سرپرست فَاللّٰهُ : پس اللہ تعالیٰ هُوَ الْوَلِيُّ : وہی سرپرست ہے وَهُوَ : اور وہ يُحْيِ : زندہ کرے گا الْمَوْتٰى : مردوں کو وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرٌ : قدرت والا ہے
کیا انہوں نے اس کے سوا کارساز بنائے ہیں ؟ کارساز تو خدا ہی ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
(42:9) ام : بمعنی بل ہے۔ یعنی کافروں نے اللہ کو حامی و ناصر و کارساز قرار نہیں دیا بلکہ اس کے سوا دوسروں کو کارساز قرار دیا ہے (اور ایسا کرنا کسی طرح صحیح نہ تھا) ۔ من دونہ : دون مضاف ہ مضاف الیہ۔ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ اس کے سوا۔ اس کے درے۔ من حرف جار ہے اولیائ : ولی کی جمع ۔ دوست۔ ساتھی۔ منصوب بوجہ اتخذوا کے مفعول ہونے کے ہے۔ اتخذوا ماضی جمع مذکر غائب ۔ اتخاذ (افتعال) مصدر۔ انہوں نے اختیار کیا۔ انہوں نے ٹھہرالیا۔ فاللّٰہ ھو الولیجواب شرط مقدرہ کے لئے ہے۔ تقدیر کلام ہے : ان ارادوا ولیا بحق فاللّٰہ تعالیٰ ھو الولی بحق۔ اگر وہ حقیقی کار ساز کا ارادہ رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ ہی حقیقی کارساز ہے۔ وھو یحی الموتی وھو علی کل شیء قدیر۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں ۔
Top