Anwar-ul-Bayan - Al-Hashr : 3
وَ لَوْ لَاۤ اَنْ كَتَبَ اللّٰهُ عَلَیْهِمُ الْجَلَآءَ لَعَذَّبَهُمْ فِی الدُّنْیَا١ؕ وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ
وَلَوْلَآ : اور اگر نہ اَنْ : یہ کہ كَتَبَ : لکھ رکھا ہوتا اللّٰهُ : اللہ عَلَيْهِمُ : ان پر الْجَلَآءَ : جلا وطن ہونا لَعَذَّبَهُمْ : تو وہ انہیں عذاب دیتا فِي الدُّنْيَا ۭ : دنیا میں وَلَهُمْ : اور ان کے لئے فِي الْاٰخِرَةِ : آخرت میں عَذَابُ النَّارِ : جہنم کا عذاب
اور اگر خدا نے ان کے بارے میں جلا وطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو انکو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیئے آگ کا عذاب (تیار) ہے
(59:3) لولا مرکب ہے لو شرطیہ اور لا نافیہ سے۔ اگر نہ ہوتا۔ ان مصدریہ ہے۔ کہ۔ کتب اللہ علیہم (کہ) لکھ دیا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف۔ کتب علی۔ کسی چیز کو کسی چیز پر فرض کرنا۔ واجب کردینا۔ ضروری کردینا۔ جیسے اور جگہ فرمایا :۔ کتب ربکم علی نفسہ الرحمۃ (6:54) تمہارے رب نے اپنی ذات (مبارک) پر رحمت کو لازم کرلیا ہے۔ الجلائ : جلا وطنی، جلا وطن ہونا۔ اجڑنا۔ ملک بدر ہونا۔ جلا یخلو (باب نصر) کا مصدر ہے منصوب بوجہ مفعول ہے۔ مادہ جلو ہے۔ الجلو کے اصل معنی ہیں کسی چیز کا نمایاں طور پر ظاہر ہونا۔ جلوہ دکھانا۔ جملہ لولا ۔۔ الجلاء شرطیہ ہے۔ اگلا جملہ جواب شرط ہے لعذبھم : لام جواب شرط کا ہے۔ عذب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو ان کو ضرور عذاب دیتا۔ مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے جلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو وہ انہیں دنیا میں کسی اور طریقہ سے عذاب دیتا۔ مثلاً قتل وقید کی سزا جیسا کہ بنی قریظہ کے ساتھ کیا۔ ولہم فی الاخرۃ عذاب النار۔ یہ ایک الگ جملہ ہے اس کا تعلق لولا کے جواب سے نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ عذاب دنیا (قتل و قید) سے بچ بھی گئے تو آخرت کے عذاب دوزخ سے نہیں بچیں گے۔ جو اس عذاب دنیا کے سو ان کو ملے گا۔
Top