Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 14
اَلَا یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ١ؕ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ۠   ۧ
اَلَا يَعْلَمُ : کیا نہیں جانے گا مَنْ خَلَقَ : وہ جس نے پیدا کیا وَهُوَ اللَّطِيْفُ : اور وہ باریک بین ہے الْخَبِيْرُ : باخبر ہے
بھلا جس نے پیدا کیا وہ بیخبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے آٰگاہ ہے
(67:14) الا یعلم من خلق یہ استفہام انکاری ہے۔ الا خبردار ہوجاؤ۔ جان لو، سن رکھو۔ ذہن نشین کرلو۔ یعلم من خلق اس کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) یعلم فعل بافاعل من خلق موصول اور صلہ مل کر یعلم کا مفعول ۔ ترجمہ ہوگا :۔ اللہ جانتا ہے جس کو اس نے پیدا کیا۔ اس صورت میں الا حرف تنبیہ ہے۔ (2) من خلق فاعل ہے یعلم فعل۔ مفعول محذوف : ای من خلق یعلم ما خلق جس نے پیدا کیا وہ جانتا ہے اس نے کیا پیدا کیا۔ اس صورت میں الا حرف استفہام ہے۔ بہرحال کلام سابق کی یہ تاکید ہے۔ وھو الطیف الخبیر : یہ جملہ خلق کی ضمیر فاعل سے حال ہے یعنی اللہ تعالٰٰ کا علم ہر چیز تک رسائی رکھتا ہے۔ خواہ وہ چیز ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ لطیف صیغہ صفت مشبہ حالت رفع۔ باریک بین۔ دقیقہ رس۔ امور دقیقہ کو جاننے والا۔ وقت نظر اور حسن تدبیر سے کام لینے والا۔ بندوں پر مہربان ۔ نیکیوں کی توفیق دینے والا۔ کسی جس کے لطیف ہونے کے معنی ہیں نازک ہونا۔ باریک ہونا۔ کسی بات کے لطیف ہونے کے معنی ہیں باریک ہونا دقیق ہونا۔ کسی حرکت کے لطیف ہونے کے معنی ہیں سبک ہونا۔ ہلکا ہونا۔ لطف نرمی۔ لطف الٰہی اس کی رحمت۔ خبیر : خبردار۔ دانا۔ خبیر بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے اللہ کے اسماء حسنی میں سے ہے۔ اور قرآن مجید میں یہ صرف ذات باری تعالیٰ کے لئے ہی مستعمل ہے۔
Top