Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو نرم کیا تو اس کی راہوں میں چلو پھرو اور خدا کا (دیا ہوا) رزق کھاؤ اور (تم کو) اسی کے پاس (قبروں سے) نکل کر جانا ہے۔
(67:15) ھو الذی جعل لکم الارض ذلولا : الارض مفعول اول۔ فعل جعل کا ذلولا مفعول ثانی، لکم متعلق فعل۔ ذلولا سیغہ صفت مشبہ۔ ذلل جمع : ذل وذل مصدر۔ پست، نرم ، ہموار مطیع۔ یعنی اللہ نے تمہارے لئے زمین کو ایسا بنادیا کہ تم آسانی کے ساتھ اس میں چل پھر سکو۔ جعل بسیط ایک مفعول چاہتا ہے اس وقت بمعنی خلق ہوگا۔ جعل مرکب دو مفعول کو چاہتا ہے اس وقت بمعنی صیر ہوگا۔ پہلی صورت میں ذلولا حال ہوگا الارض سے۔ فامشوا فی مناکبھا :ترتیب کے لئے ہے ای لترتیب الامر بالمشی : امشوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ مشی باب ضرب مصدر۔ بمعنی چلنا۔ تم چلو پھرو۔ مناکبھا۔ مضاف مضاف الیہ، نکب مادہ سے منکب بمعنی کندھا ۔ (جمع مناکب بمعنی کندھے) استعارہ کے طور پر زمین کے راستوں پر بولا جاتا ہے جیسے کہ آیت ہذا میں ۔ اور یہ زمین کے لئے بطور استعارہ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت کریمہ ما ترک علی ظھرھا من دابۃ (35:45) تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ میں ظھر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ حسن ، مجاہد ، کلبی، مقاتل کا قول ہے :۔ مناکب الارض سے مراد زمین کے راستے، گھاٹیاں، کنارے، اطراف ہیں۔ کس لئے کہ انسان کے مناکب بھی اس کے بدن کے کنارے ، جو انب ہیں۔ اس مناسبت سے زمین کے کناروں اور جوانب اور راستوں کو بھی مناکب کہنے لگے۔ وکلوا من رزقہ۔ واؤ عاطفہ، کلوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اکل (باب نصر) مصدر۔ کھاؤ۔ من تبعیضیہ ہے۔ زرقہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی دی ہوئی روزی سے ۔ صاحب تفسیر مظہر فرماتے ہیں :۔ وکلوا من رزقہ ای اطلبوا : یعنی خداداد نعمت کی طلب کرو۔ کھانے سے مراد طلب کرنا۔ اور رزق سے مراد ہے نعمت خداوندی۔ والیہ النشور : جملہ مستانفہ ہے۔ الیہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ النشور (باب نصر) مصدر ہے۔ بمعنی جی اٹھنا۔ یعنی جزاء وسزا کے لئے دوبارہ زندہ ہوکر اٹھ کھڑا ہونا۔ مطلب ہے کہ روز قیامت دوبارہ زندہ ہوکر قبروں سے اٹھ کر اسی ہی کی طرف جانا ہے۔
Top