Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اس جو آسمان میں ہے بےخوف ہو کہ تم کو زمین میں دہنسا دے اور وہ اس وقت حرکت کرنے لگے
(67:16) ی امنتم من فی السماء ہمزہ استفہامیہ ہے استفہام انکاری ہے۔ یعنی نڈر نہ ہونا چاہیے۔ امنتم ماضی جمع مذکر حاضر۔ امن (باب سمع) مصدر ۔ تم امن میں ہوئے تم مطمئن ہوگئے۔ تم نڈر ہوگئے۔ من اسم موصول ۔ فی السمائ۔ صلہ۔ من محل نصب میں ہے بوجہ امنتم کے مفعول ہونے کے۔ کیا تم نڈر ہوگئے ہو اس سے جو آسمان میں ہے۔ ان یخسف بکم الارض : ان مصدریہ۔ یخسف مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب۔ خسف فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ بمعنی دھنسنا۔ دھنسا دینا۔ کہ وہ تم کو دھنسا دے۔ خسف فعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ بمعنی دھنسنا یا دھنسانا۔ خسف سے بطور استعارہ ۔ ذلت بھی مراد ہوتی ہے۔ مثلا تحمل زید خسفا۔ زید نے ذلت برداشت کی خسرف (چاند گرہن) بھی اسی مادہ خسف سے مشتق ہے۔ فاذا ہی تمور : اذا مفاجات (ناگہاں، اچانک) کے لئے ہے۔ اور تمور کا معنی ہے ہلنے لگے۔ زمین میں زلزلہ آجائے۔ یعنی اچانک زمین میں لرزہ پیدا ہوجائے (اور اللہ کافروں کو زمین کے اندر دھنسا دے) (تفسیر مظہری) ۔ (اور) کیا تم اس بات سے امن میں ہوگئے ہو کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے اور یکایک تمہارے دھنسانے کے لئے زمین ہلنے اور لرزنے لگے ، جیسا کہ زلزلے کے وقت ہوتا ہے زمین ہل کر پھٹ جاتی ہے اور آدمی اور بڑے بڑے مکانات اندر سما جاتے ہیں۔ (تفسیر حقانی) صاحب روح المعانی اور علامہ عبد اللہ یوسف علی نے اذا کو مفاجات کی بجائے ظرفیت کے لئے بمعنی جب، جسوقت، لیا ہے ۔ اور اس صورت میں ان یخسف ۔۔ تمور کا ترجمہ ہوگا :۔ کہ وہ تم کو زمین میں دھنسا دے جب کہ وہ زلزلے کی صورت میں پھٹی پڑتی ہو تمور : مضارع واحد مؤنث غائب مور (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھرنا، تیز چلنا، وہ لرزتی ہے ، وہ پھرتی ہے، وہ جنبش کرتی ہے۔ وہ پھٹتی ہے۔
Top