Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 18
وَ لَقَدْ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ فَكَیْفَ كَانَ نَكِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق كَذَّبَ : جھٹلایا الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے مِنْ قَبْلِهِمْ : جو ان سے پہلے تھے فَكَيْفَ : تو کس طرح كَانَ نَكِيْرِ : تھی پکڑ میری
اور جو لوگ ان سے پہلے تھے انہوں نے بھی جھٹلایا تھا سو (دیکھ لو کہ) میرا کیسا عذاب ہوا۔
(67:18) ولقد کذب الذین من قبلہم فکیف کان نکیر : قبلہم میں ہم ضمیر کا مرجع کفار مکہ ہیں۔ پہلا کلام خطابی ہے اور اب یہ کلام بصورت غائب، یہ التفات ضمائر کفار مکہ کی مسلسل روگردانی کے پیش نظر نفرت اور ناگوارہ کے اظہار کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ والالتفات الی الغیبۃ لابراز الاعراض عنہم (روح المعانی) الذین من قبلہم سے مراد وہ قومیں ہیں جو کفار مکہ سے قبل ہو گزریں اور جنہوں نے پیغمبروں کا جھٹلایا۔ مثلا قوم نوح، قوم عاد، قوم ثمود ، وغیرہ۔ فکیف کان نکیر سے قبل جملہ مقدرہ ہے۔ ” تم خود دیکھ لو “ میرا انکار کیسا تھا۔ اس کی ترکین نحوی مثل کیف کان نذیر ہے۔ لغات القرآن میں جمل، روح المعانی کے حوالہ سے نکیر کی تشریح یوں تحریر ہے :۔ نکیر، مصدر بمعنی انکار اصل میں نکیری تھا انکار سے مراد ان آیات میں زبانی یا دلی انکار نہیں بلکہ ان کی حالت کو برعکس اور مخالف حالت سے بدل ڈالنا مراد ہے یعنی تغییر الضد بالضد مثلا زندگی کو موت سے آبادی کو دیرانی سے بدل ڈالنا۔ (جمل) کس سخت، ہیبت ناک، دشوار مصیبت میں مبتلا کردینا ہی اللہ کی طرف سے انکار کرنے کا معنی ہے (روح المعانی)
Top