Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 21
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُكُمْ اِنْ اَمْسَكَ رِزْقَهٗ١ۚ بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّ وَّ نُفُوْرٍ
اَمَّنْ هٰذَا الَّذِيْ : یا کون ہے وہ جو يَرْزُقُكُمْ : رزق دے گا تم کو اِنْ اَمْسَكَ : اگر تھام لیا۔ روک لیا رِزْقَهٗ : اس نے رزق اپنا بَلْ لَّجُّوْا : بلکہ وہ اڑے ہوئے ہیں فِيْ عُتُوٍّ : سرکشی میں وَّنُفُوْرٍ : بھاگنے میں
بھلا اگر وہ اپنا رزق بند کرلے تو کون ہے جو تم کو رزق دے ؟ لیکن یہ سرکشی اور نفرت میں پھنسے ہوئے ہیں
(67:21) امن ھذا الذی یرزکم ان امسک رزقہ : امن مبتدا۔ ھذا اس کی خبر۔ الذی یرزقکم بدل ہے ھذا سے۔ بھلا وہ کون ہے جو روزی دے گا تم کو اگر وہ رکھ چھوڑے (یعنی روکے رکھے) اپنی روزی استفہام انکاری ہے، مراد یہ کہ اگر پروردگار اپنی روزی کو بندے سے روک دے۔ تو اس کے مقابلہ میں کوئی نہیں جو بندے کو روزی دے سکے۔ ان شرطیہ ہے۔ امسک ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب امساک (افعال) مصدر ۔ بمعنی روکے رکھنا۔ روکنا۔ اگر وہ روکے رکھے اپنے رزق کو۔ بل حرف اضراب ہے۔ پہلے حکم کو برقرار رکھ کر اس کے مابعد کو اس حکم پر اور زیادہ کردیا گیا ہے یعنی کافرین نہ صرف شیطان کی طرف سے فریب و دھوکے میں ہیں بلکہ مزید برآں اس فریب خوردنی میں بڑھئے جاتے ہیں۔ لجوا۔ ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ، لجاج ولجاجۃ (باب سمع و ضرب) مصدر۔ بمعنی اڑے رہنا۔ لجاج کسی ممنوع فعل پر اڑے رہنے کو کہتے ہیں۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ ولو رحمنھم وکشفنا مابھم من ضر للجوا فی طغیانھم یعمھون (23:75) اور اگر ہم ان پر رحم کریں اور جو تکلیفیں ان کو پہنچ رہی ہیں وہ دور کردیں تو بھی وہ اپنی سرکشی پر اڑے رہیں (اور) بھٹکتے (پھریں عتو : شرارت، سرکشی، نافرمانی، عتا یعتوا (باب نصر) سے مصدر ہے جس کے معنی اطاعت ست اکڑنے، تکبر کرنے اور حد دے بڑھ جانے کے ہیں۔ ونفور : واؤ عاطفہ اس کا عطف عتو پر ہے۔ نفور (باب نصر و ضرب) سے مصد رہے بمعنی بھاگنا ، دور ہونا، حق سے دور ہونا۔ رتبا عد عن الحق (خازن)
Top