Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ سیدھے راستے پر ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر برابر چل رہا ہو
(67:22) افمن یمشی مکبا علی وجھہ اھدی : ہمزہ استفہامیہ ہے۔ترتیب کا ہے۔ من موصولہ مبتداء ہے یمشی مکبا علی وجھہ صلہ۔ مکبا علی وجھم ضمیر فاعل یمشی سے حال ہے۔ یمشی مضارع واحد مذکر غائب کا صیغہ ، مشی باب ضرب مصدر سے ۔ وہ چلتا ہے۔ مکبا اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ اکباب (افعال) مصدر سے ، سرنگوں ، اوندھا یعنی رستہ کی دشواری ونشیب ق فراز کی وجہ سے چلتے چلتے ٹھوکر کھا کر گرپڑنا ہے منہ کے بل۔ اھدی ، ھدایۃ سے (باب ضرب) مصدر سے، افعل التفضیل کا صیغہ۔ بمعنی زیادہ ہدایت یافتہ، یہ مبتداء کی خبر ہے۔ امن یمشی سویا علی صراط مستقیم : اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے تعلیل نحوی تقریبا وہی ہے جو جملہ سابقہ کی ہے۔ سویا سیدھا، درست، صحیح، بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں : ۔ سوی اس کو کہا جاتا ہے جو مقدار اور کیفیت دونوں حیثیت سے افراط و تفریطہ سے پاک ہو۔ محفوظ ہو، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :۔ ثلث لیال سویا (19:10) تین رات تک بھلا چنگا۔ اور دوسری جگہ فرمایا :۔ من اصحب الصراط السوی (20 : 135) کون ہیں سیدھی راہ والے۔ اور رجل سوی وہ ہے جس کے اخلاق بھی اور خلقت بھی افراط و تفریط کے اعتبار سے معتدل ہوں۔ صراط مستقیم : موصوف و صفت، سیدھا راستہ۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ زیادہ سیدھے راستہ پر ہے (یا ہدایت یافتہ ہے) یا وہ جو سیدھے راستہ پر مسلسل چل رہا ہو۔ برابر چل رہا ہو۔
Top