Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 24
قُلْ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْ : وہ اللہ وہ ذات ہے ذَرَاَكُمْ : جس نے پھیلایا تم کو فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَاِلَيْهِ تُحْشَرُوْنَ : اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے
کہہ دو وہی ہے جس نے تم کو زمین میں پھیلایا اور اسی کے روبرو تم جمع کئے جاؤ گے۔
(67:24) قل : امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ قول (باب نصر) مصدر۔ تو کہہ۔ یہ لفظا یہاں زائد ہے اور معنی تاکید کے لئے مفید ہے۔ ھو الذی ذراکم فی الارض : یہ جملہ ھو الذی انشاکم سے بدل ہے والیہ تحشرون : یہ جملہ ذراکم کے فاعل (یعنی اللہ) سے حال ہے۔ ذرا ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ذرء (باب فتح) مصدر۔ اس نے پیدا کیا ۔ اس نے پھیلایا۔ اس نے بکھیرا۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ اس نے تم کو پیدا کیا۔ اس نے تم کو پھیلایا۔ تحشرون ۔ مضارع مجہول جمع مذکر حاضر حشر (باب نصر) مصدر۔ تم جمع کئے جاؤ گے۔ تم اکھٹے کئے جاؤ گے۔
Top