Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کر دے یا ہم پر مہربانی کرے تو کون ہے جو کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے
(67:28) قل : ای قل یا محمد لمشر کی مکۃ الذین یتمنون ہلاکک ای محمد ( ﷺ ) مکہ کے کافروں کو جو آپ کی موت کے متمنی ہیں کہہ دو ۔ ارائیتم : کیا تم نے دیکھا۔ یہ محاور بمعنی ارونی (بھلا مجھے دکھاؤ تو) یا اخبرونی بھلا مجھے بتاؤ تو) استعمال ہوتا ہے۔ ان اھلکنی اللہ ومن معی اور حمنا : ان حرف شرط ہے اہلکنی اللہ جملہ شرطیہ ہے ۔ ومن معی اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے جملہ شرط ہے او حرف عطف رحمنا جملہ شرط جس کا عطف جملہ اول پر ہے۔ اہلکنی : اہلکماضی واحد مذکر غائب اہلاک (افعال) مصدر ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم اگر وہ (یعنی اللہ) مجھے ہلاک کردے ومن معی : من موصولہ، معی صلہ۔ اور ان کو جو میرے ساتھی ہیں (یعنی مؤمن) فمن یجیر الکافرین من عذاب الیم۔ جواب شرط۔ یجیر مضارع واحد مذکر غائب اجارۃ (افعال) مصدر۔ کون پناہ دے گا جور مادہ۔ جار پڑوسی، پناہ دینے یا لینے والا۔ جوز ظلم ۔ زیادتی۔ عذاب الیم : موصوف صفت، دردناک عذاب۔ یعنی کوئی بھی پناہ نہیں دے سکتا۔ جملہ استفہامیہ انکاریہ ہے۔ جواب شرط میں۔
Top