Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 29
قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ : وہی الرَّحْمٰنُ : رحمن اٰمَنَّا بِهٖ : ایمان لائے ہم اس پر وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا : اور اسی پر توکل کیا ہم نے فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لوگے مَنْ هُوَ : کون ہے وہ جو فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : کھلی گمراہی میں ہے
کہہ دو کہ وہ (جو خدائے) رحمن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائیگا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا
(67:29) قل ھو الرحمن امنا بہ : ای قل یا محمد ﷺ ھو (یعنی اللہ) ۔ الرحمن : یعنی اے رسول اللہ ﷺ ان کفار سے فرما دیجئے کہ وہ اللہ جس کے اختیار میں ہماری ہلاکت یا پناہ ہے وہ بہت ہی رحم کرنے والا ہے۔ (ھو ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع آیت مندرجہ بالا ان اہلکنی اللہ ۔۔ الخ میں اللہ ہے امنا بہ (ہم اسی پر ایمان رکھتے ہیں) وعلیہ توکلنا (اور اسی پر بھروسہ رکھتے ہیں) یہ دونوں جمع الرحمن کی صفت ہیں۔ یا ھو ضمیر شان ہے۔ اور امنا بہوعلیہ توکلنا خبر ہے الرحمن کی۔ ضمیر شان کا فائدہ یہ ہے کہ مخبر عنہ (الرحمن) کی تعظیم اور بڑائی پر دلالت کرتی ہے اس طرح کہ پہلے اس کا مبہم طریقہ سے ذکر کرکے پھر اس کی تشریح کی جائے۔ علیہ کو توکلنا سے مقدم ذکر کرنا حصر پر دلالت کرتا ہے (اسی پر ہمارا بھروسہ ہے) حیصر کا مفہوم ھو الرحمن سے بھی مستفاد ہوتا ہے مبتدا اور خبر جب دونوں معرفہ ہوں تو مفید حصر ہوتے ہیں۔ (وہی رحمن ہے) اس جملہ سے اس کی تائید ہوتی ہے گویا یہ جملہ سابق دونوں جملوں کی تاکید کر رہا ہے۔ حقیقت میں اس آیت کا مفہوم نتیجہ ہے ان دلائل کا جو پہلے بیان کئے گئے ہیں اور اسی پر مؤمنوں اور کافروں کے آئندہ حکم کی بنا ہے اسی لئے اگلے جملے میںسببیت کی لائی گئی ہے۔ (تفسیر المظہری) فستعلمون من ھو فی ضلال مبین ۔سببیت کی ہے (جیسا کہ ابھی اوپر گزرا) س مجارع پر داخل ہوکر اس کو خالص مستقبل کے معنی میں کردیتا ہے اور مستقبل قریب کے معنی دیتا ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ پس تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ کون صریح گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔ من استفہامیہ محل نصب میں ہے کیونکہ تعلمون کا مفعول ہے۔
Top