Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 4
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ
ثُمَّ ارْجِعِ : پھر لوٹاؤ الْبَصَرَ : نگاہ کو كَرَّتَيْنِ : بار بار يَنْقَلِبْ : لوٹ آئے گی اِلَيْكَ الْبَصَرُ : تیری طرف نگاہ خَاسِئًا : ذلیل ہوکر۔ عاجز ہو کر وَّهُوَ حَسِيْرٌ : اور وہ تھکی ہوئی ہوگی
پھر دوبارہ (سہ بارہ) نظر کر تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹے گی۔
(67:4) ثم ارجع البصر کرتین۔ اس جملہ کا عطف فارجع پر ہے اور تثنیہ (یعنی لفظ کر تین جو کرۃ کا تثنیہ ہے) تکثیر کے لئے ہے۔ صرف دو دفعہ دیکھنا مراد نہیں ہے بلکہ بار بار دیکھنا مراد ہے پھر با ربارنگاہ ڈالو۔ ینقلب : مضارع مجزوم (بوجہ جواب امر) صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ابقلاب (انفعال) مصدر۔ وہ (نگاہ تیری طرف) لوٹے گی خسئا : خسأ (باب فتح) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ، بمعنی درماندہ، ذلیل و خوار، تھک کر رہ جانے والا۔ دھتکارا ہوا۔ عربی میں ہے خسات الکلب فخسأ میں نے کتے کو دھتکارا پس وہ دور ہوگیا۔ کسی کو دھتکارنے کے لئے عربی میں اخسأ کہا جاتا ہے چناچہ قرآن مجید میں ہے :۔ اخسئوا فیہا ولا تکلمون (23:108) اس میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور میرے ساتھ کلام نہ کرو، اسی سے خسأ البصر کا محاورہ ہے جس کے معنی ہیں نظر درماندہ ہو کر منقبض ہوگئی۔ (خ س و حروف مادہ) ۔ خسئا حال ہے ینقلب کے فاعل البصر سے۔ وھو حسیر : یہ جملہ بھی البصر کا دوسرا حال ہے حسیر تھکا ہوا۔ درماندہ، حسر (باب فتح) مصدر سے جس کے معنی ہیں تھکنا عاجز ہونا۔ بروزن (فعیل) صفت مشبہ کا صیغہ بمعنی فاعل بھی ہوسکتا ہے یعنی تھکنے والا۔ عاجز، اور بمعنی مفعول بھی۔ یعنی تھکا ہوا اور درماندہ
Top