Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 7
اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ
اِذَآ اُلْقُوْا : جب وہ ڈالیں جائیں گے فِيْهَا : اس میں سَمِعُوْا : سنیں گے لَهَا : واسطے اس کے شَهِيْقًا : چلانا وَّهِىَ تَفُوْرُ : اور وہ جوش کھارہی ہوگی
جب وہ اس میں ڈالے جائیں کے تو اس کا چیخنا چلانا سنیں گے اور وہ جوش مار رہی ہوگی۔
(67:7) اذا القوا فیہا : اذا ظرف زمان ہے (شرطیہ) جب، جسوقت۔ القوا ماضی مجہول جمع مذکرغائب۔ القاء (افعال) مصدر۔ بمعنی ڈالنا۔ فیہا میں ضمیر ھا واحد مؤنث غائب کا مرجع جہنم ہے۔ یعنی جب کافروں کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ سمعوا لہا شھیقا : جواب شرط۔ لہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع جہنم ہے لہا حال ہے شھیقا سے جو سمعوا کے مفعول ہونے کے منصوب ہے۔ شھیقا نکرہ تھا اس لئے حال کو اس سے پہلے مقد کردیا۔ (تفسیر المظہری) شھیق گدھے کی آواز۔ یعنی گدھے جیسی آواز جہنم کی آگ سے نکلتی ہوئی سنیں گے یہ آگ کی آواز ہوگی یا ان لوگوں کی جو ان داخل ہونے والوں سے پہلے جہنم میں جا چکے ہوں گے یا خود ان کی ہوگی (المظہری) وہی تفور : یہ جملہ لہا کی ضمیر سے حال ہے یا فیہا کی ضمیر سے حال ہے ہی ای جھنم : تفور : مضارع واحد مؤنث غائب۔ فور (باب نصر) مصدر سے بمعنی اچھلنا۔ جوش مارنا۔ فور کا استعمال آگ کے، ہنڈیا کے اور غصہ کے جوش مارنے اور ابلنے کے لئے ہوتا ہے۔
Top