Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 8
تَكَادُ تَمَیَّزُ مِنَ الْغَیْظِ١ؕ كُلَّمَاۤ اُلْقِیَ فِیْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَاۤ اَلَمْ یَاْتِكُمْ نَذِیْرٌ
تَكَادُ : قریب ہے کہ تَمَيَّزُ : پھٹ جائے مِنَ الْغَيْظِ : غضب سے۔ غصے سے كُلَّمَآ : جب کبھی اُلْقِيَ فِيْهَا : ڈالی جائے گی اس میں فَوْجٌ : کوئی فوج۔ لوگوں کا گروہ سَاَلَهُمْ : پوچھیں گے ان سے خَزَنَتُهَآ : ان کے داروغہ۔ چوکیدار اَلَمْ يَاْتِكُمْ : کیا نہیں آیا تھا تمہارے پاس نَذِيْرٌ : کوئی ڈرانے والا
گویا مارے جوش کے پھٹ پڑے گی جب اس میں ان کی کوئی جماعت ڈالی جائے گی تو دوزخ کے داروغہ ان سے پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ہدایت کرنیولا نہیں آیا تھا ؟
(67:8) تکاد تمیز من الغیظ : من الغیظ کا تعلق تمیز سے ہے اور پورے جملے میں تفور کے فاعل (یعنی جہنم) کی حالت بیان کی ہے۔ تکاد مضارع واحد مؤنث غائب تمیز (تفعل) مصدر اصل میں تتمیز تھا۔ ایک ت حذف ہوگئی۔ ایک دوسرے سے جدا ہونا۔ پھٹ جانا۔ (قریب ہے کہ) پھٹ جائے ۔ صاحب اضواء البیان لکھتے ہیں :۔ اثبات ان للنار حسا وادراکا وارادۃ والقران اثبت للنار انھا تعتاظ وتبصر و تتکلم وتطلب المزید کما قال ھھنا۔ تکاد تمیز من الغیظ۔ وقال : اذا رأتھم من مکان بعید سمعوا لہا تغیظا و زفیرا (25:12) جب وہ ان کو دور سے دیکھے گی تو (غضبناک ہو رہی ہوگی اور یہ) اس کے جوش و غضب) اور چیخنے چلانے کو سنیں گے۔ وقال : یوم نقول لجھنم ہل امتلئت وتقول ہل من مزید (50:30) اس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی ہے ؟ وہ کہیگی کچھ اور بھی ہے۔ غیظ کے معنی سخت غصہ کے ہیں۔ یعنی وہ حرارت جو انسان اپنے دل کے دوران خون کے تیز ہونے پر محسوس کرتا ہے۔ اگر غیظ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے انتقام لینا مراد ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا وانھم لنا لغائظون (26:55) اور یہ ہمیں غصہ دلا رہے ہیں۔ یعنی وہ اپنی مخالفانہ حرکتوں سے ہمیں انتقام پر آمادہ کر رہے ہیں۔ اور تغیظ کے معنی اظہار غصہ کے ہیں ، جو کبھی ایسی آواز کے ساتھ ہوتا ہے جو سنائی دے۔ جیسا کہ آیت ہذا زیر مطالعہ۔ ترجمہ ہوگا :۔ تو وہ اس کے جوش غصب اور اس کے چیخنے اور چلانے کو سنیں گے۔ کلما : یہ لفظ مرکب ہے کل اور ما سے۔ اس ترکیب میں ظرفت کی وجہ سے لفظ کل ہمیشہ منصوب رہتا ہے۔ اس میں ظرفیت ما کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کیونکہ ما حرف مصدری ہے یا اسم نکرہ ہے بمعنی وقت کے۔ اکثر کلما کے بعد فعل ماضی آتا ہے۔ جیسے آیت ہذا وغیرہ۔ جب ۔ جب بھی۔ القی ماضی مجہول واحد مذکر غائب القاء (افعال) مصدر بمعنی ڈالنا۔ القی وہ ڈالا گیا۔ فیہا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب جھنم (آیت 6) کے لئے ہے۔ فوج : گروہ، لشکر، فوج ۔ مراد یہاں کفار کی جماعت ہے۔ سئالہم خزنتھا : سئال کا فاعل خزنۃ ہے جو خازن کی جمع ہے بمعنی داروغہ ، نگہبان، چوکیدار،۔ خزانچی، یہ مضاف ہے ھا مضاف الیہ، اس کا مرجع بھی جہنم ہے ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب فوج کے لئے ہے۔ الم یاتکم : استفہام تقریری ہے۔ لم یات مضارع نفی جحد بلم ۔ صیغہ واحد مذکر غائب کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ کیا تمہارے پاس نہیں آیا ؟ نذیر : بمعنی جمع ہے جیسا کہ اگلا جملہ ان انتم ۔۔ سے ظاہر ہے یا یہ مصدر ہے اور مضاف الیہ ہے۔ جس کا مناف محذوف ہے ای اہل انذار (ڈرنے والے) ۔ مطلب یہ کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے نہیں آئے تھے۔ (یعنی پیغمبر)
Top