Anwar-ul-Bayan - Al-Mulk : 9
قَالُوْا بَلٰى قَدْ جَآءَنَا نَذِیْرٌ١ۙ۬ فَكَذَّبْنَا وَ قُلْنَا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۖۚ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا فِیْ ضَلٰلٍ كَبِیْرٍ
قَالُوْا : وہ کہیں گے بَلٰي : کیوں نہیں قَدْ جَآءَنَا : تحقیق آیا ہمارے پاس نَذِيْرٌ : ڈرانے والا فَكَذَّبْنَا : تو جھٹلادیا ہم نے وَقُلْنَا : اور کہا ہم نے مَا نَزَّلَ اللّٰهُ : نہیں نازل کی اللہ نے مِنْ شَيْءٍ : کوئی چیز اِنْ اَنْتُمْ : نہیں تم اِلَّا : مگر فِيْ : میں ضَلٰلٍ كَبِيْرٍ : بڑی گمراہی
وہ کہیں گے کیوں نہیں ضرور ہدایت کرنے والا آیا تھا لیکن ہم نے اس کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے تو کوئی چیز نازل ہی نہیں کی۔ تم تو بڑی غلطی میں (پڑے ہوئے) ہو۔
(67:9) قالوا۔ ماضی بمعنی مستقبل۔ یعنی وہ لوگ جن سے سوال کیا جائے گا کہ کیا تمہارے پاس اللہ کے عذاب سے ڈرانے والے رسول نہیں آئے تھے۔ وہ جواب میں کہیں گے۔ بلی : ہاں ۔ الف اس میں اصلی ہے بعض کہتے ہیں کہ زائد ہے۔ اصل میں بل تھا۔ اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ تانیث کے لئے ہے کیونکہ اس میں امالہ ہوتا ہے۔ بلی کا استعمال دو جگہ پر ہوتا ہے :۔ (1) ایک تو نفی ماقبل کی تردید کے لئے جیسے زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا قل بلی وربی لتبعثن (64:7) کافر دعوی کرتے ہیں کہ وہ ہرگز نہیں اٹھائے جائیں گے تو کہہ دے کیوں نہیں قسم ہے میرے رب کی تمہیں ضرور اٹھایا جائے گا۔ (2) دوسرے یہ کہ اس استفہام کے جواب میں آئے جو نفی پر واقع ہے خواہ استفہام حقیقی ہو۔ جیسے الیس زید بقائم (کیا زید کھڑا نہیں ہے) اور جواب میں کہا جائے بلی۔ یا استفہام توبیخی، جیسے ایحسب الانسان ان لن تجمع عظامہ بلی قادرین علی ان نسوی بنانہ (75:3-4) انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہیں کریں گے۔ کیوں نہیں ہم قدرت رکھتے ہیں کہ اس کو پورپور درست کردیں۔ یا استفہام تقریری ہو جیسے الست بربکم ، قالوا بلی ، شھدنا (7:172) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں۔ انہوں نے کہا ہاں (تو ہی ہے) ہم گواہ ہیں۔ قد جاء نا نذیر : یہ جملہ بلی کے مفہوم کی تاکید کے لئے ہے۔ فکذبنا :بمعنی لیکن ۔ لیکن ہم نے نذیر کو جھٹلایا۔ جھوٹا قرار دیا۔ وقلنا ما نزل اللہ من شیء اور ہم نے کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا۔ یعنی (اے ڈرانے والو ! ) نہ ہی تمہیں اللہ نے بھیجا۔ اور نہ ہی کوئی چیز نازل کی۔ (اس سے انہوں نے اللہ کے رسولوں اور اس کی نازل کردہ کتب سے انکار کردیا) ۔ ان کنتم : میں ان نافیہ ہے۔ تم لوگ خود ہی گمراہی صریح میں پڑے ہوئے ہو۔
Top