Anwar-ul-Bayan - Al-Haaqqa : 41
وَّ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَۙ
وَّمَا هُوَ : اور نہیں وہ بِقَوْلِ شَاعِرٍ : کسی شاعر کا قول قَلِيْلًا مَّا تُؤْمِنُوْنَ : کتنا کم تم ایمان لاتے ہو
اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں مگر تم لوگ بہت ہی کم ایمان لاتے ہو
(69:41) وما ھو بقول شاعر : یہ جملہ، جملہ سابقہ انہ لقول رسول کریم کی تاکید کے لئے آیا ہے۔ اور یہ کسی شاعر کا کلام نہیں ہے قلیلا ما تؤمنون ۔ قیلا میں نصب مصدریت (مفعول مطلق) کی بناء پر ہے یا ظرفیت (مفعول فیہ) کی بناء پر اور ما رائدہ تاکید قلت کے لئے ہے یعنی بہت ہی کم نہ ہونے کے برابر۔ تفسیر ماجدی میں ہے :۔ قلیلا۔ یہ قلت دونوں جگہ عدم کے معنی میں ہے وقلیل یعبربہ عن النفی (اور قلیل نفی سے تعبیر کی گئی ہے) (راغب) القلۃ فی معنی العدم قلت عدم کے معنی میں آیا ہے (الکشاف) والعرب یقولون قلما یاتینا یریدون لایاتینا۔ عرب قلما یاتینا (وہ بہت ہی کم ہمارے پاس آتا ہے) کہہ کر مراد یہ لیتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس نہیں آتا۔ (تفسیر کبیر) ۔ تفسیر مظہری میں ہے :۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ قلیل ایمان سے مراد نفی ایمان ہے یعنی بالکل ایمان نہیں رکھتے ہو۔ جیسے اس شخص سے تم کہو جو تمہاری ملاقات کو نہیں آتا کہ آپ تو بالکل کم ہی ہم سے ملاقات کرتے ہیں یعنی نہیں کرتے۔ مندرجہ بالا تفاسیر کی روشنی میں ترجمہ ہوگا :۔ (لیکن) تم ایمان ہی نہیں رکھتے۔ تؤمنون۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ایمان (افعال) مصدر۔ تم ایمان رکھتے ہو۔
Top