Anwar-ul-Bayan - Al-Haaqqa : 42
وَ لَا بِقَوْلِ كَاهِنٍ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ
وَلَا بِقَوْلِ : اور نہ ہی قول ہے كَاهِنٍ : کسی کا ہن قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَذَكَّرُوْنَ : تم نصیحت پکڑتے ہو
اور نہ کسی کاہن کے مزخرفات ہیں لیکن تم لوگ بہت کم فکر کرتے ہو
(69:42) ولا بقول کاھن، جملہ ھذا کا عطف جملہ سابقہ پر ہے اور نہ یہ کسی کاہن کا کلام ہے۔ کاہن اس شخص کو کہتے ہیں جو تخمینے سے ماضی کے خفیہ واقعات کی خبر دیتا ہے چونکہ اس فن کی بناء ظن پر ہے جس میں صواب و خطاء کا احتمال پایا جاتا ہے لہٰذا اسے کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قلیلا ما تذکرون ۔ (لیکن) تم غور ہی نہیں کرتے) لیکن تم لوگ بہت ہی کم دھیان دیتے ہو۔ (راغب)
Top