Anwar-ul-Bayan - Al-Insaan : 19
وَ یَطُوْفُ عَلَیْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ١ۚ اِذَا رَاَیْتَهُمْ حَسِبْتَهُمْ لُؤْلُؤًا مَّنْثُوْرًا
وَيَطُوْفُ : اور گردش کرینگے عَلَيْهِمْ : ان پر وِلْدَانٌ : لڑکے مُّخَلَّدُوْنَ ۚ : ہمیشہ (نوعمر) رہنے والے اِذَا رَاَيْتَهُمْ : جب تو انہیں دیکھے حَسِبْتَهُمْ : تو انہیں سمجھے لُؤْلُؤًا : موتی مَّنْثُوْرًا : بکھرے ہوئے
اور ان کے پاس لڑکے آتے جاتے ہوں گے جو ہمیشہ (ایک ہی حالت پر) آئیں گے جب تم ان پر نگاہ ڈالو تو خیال کرو کہ بکھرے ہوے موتی ہیں
(76:19) ویطوف علیہم ولدان مخلدون۔ اس جملہ کا عطف بھی یطاف علیہم پر ہے۔ یطوف مضارع واحد مذکر غائب۔ طوف (باب نصر) مصدر چکر لگائے رہیں گے۔ ان کی خدمت کے لئے گھومتے ہونگے۔ ولدان جمع ولد واحد بچے، جنت کے غلمان ۔ مخلدون، تخلید (تفعیل) مصدر سے اسم مفعول کا صیغہ جمع مذکر۔ سدا رہنے والے۔ یعنی نہ مریں گے اور نہ بوڑھے ہوں گے۔ اذا رایتھم حسبتھم لؤلوا منثورا۔ اس میں پہلا جملہ شرط ہے اور دوسرا جملہ جواب شرط ہے۔ جب تو انہیں دیکھے تو سمجھے کہ بکھرے ہوئے موتی ہیں۔ حسبتھم ، حسبت ماضی واحد مذکر حاضر۔ حسبان (باب حسب یحسب) مصدر بمعنی گمان کرنا۔ خیال کرنا۔ سمجھنا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ تو نے ان کو جانا۔ تو نے ان کو خیال کیا۔ تو ان کو سمجھے یا خیال کرے۔ لؤلوا منثورا۔ موصوف و صفت، بکھرے ہوئے موتی، لؤلؤا کی جمع لالی ہے۔ منشور ۔ نثر (باب ضرب، نصر) مصدر سے اسم مفعول واحد مذکر ہے۔ بکھرا ہوا۔ لؤلوا منثورا ہم ضمیر مفعول سے حال ہے۔
Top