Anwar-ul-Bayan - Al-Insaan : 6
عَیْنًا یَّشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللّٰهِ یُفَجِّرُوْنَهَا تَفْجِیْرًا
عَيْنًا : ایک چشمہ يَّشْرَبُ : پیتے ہیں بِهَا : اس سے عِبَادُ : بندے اللّٰهِ : اللہ کے يُفَجِّرُوْنَهَا : اس سے رواں کرتے ہیں تَفْجِيْرًا : نالیاں
یہ ایک چشمہ ہے جس میں سے خدا کے بندے پئیں گے اور اس میں سے (چھوٹی چھوٹی) نہریں نکال لیں گے
(76:6) عینا بعض کے نزدیک کافور بہشت میں ایک چشمے کا نام ہے اس صورت میں عینا ، کافورا سے بدل ہے۔ اس صورت میں مطلب ہوگا :۔ کہ وہ مشروب جو ابرار لوگ بہشت میں پئیں گے اس میں چشمہ کافور کا شربت بھی شامل ہوگا۔ یشرب بھا۔ اس کی تشریح میں علامہ پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رقمطراز ہیں۔ باء زائدہ ہے۔ اس کو پئیں گے۔ یا۔ یشرب لذت کے معنی کو متضمن ہے اور یلتذ کے مفعول پر ب آتی ہے اس لئے یشرب کے مفعول پر بھی ب لائی گئی ہے۔ یا ممزوجا محذوف ہے بھا اس سے متعلق ہے۔ یا ۔ باء ابتدائیہ کے معنی میں ہے اس سے پئیں گے ۔ عباد اللہ مضاف مضاف الیہ دونوں مل کر یشرب کا فاعل ، جسے اللہ کے بندے پئیں گے۔ یفجرونھا تفجیرا۔ یفجرون مضارع جمع مذکر غائب۔ تفجیر (تفعیل) مصدعر وہ بہا کرلے جائیں گے۔ وہ (سرچشمہ میں سے کاٹ کر) نکال کرلے جائیں گے۔ الفجر کے معنی کسی چیز کو وسیع طور پر پھاڑنے اور شق کردینے کے ہیں۔ فجرتہ فانفجر : میں نے پانی کو پھاڑ کر بہایا پس وہ بہہ گیا۔ صبح کو فجر کہا جاتا ہے کیونکہ صبح کی روشنی بھی رات کی تاریکی کو پھاڑ کر نمودار ہوتی ہے ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب عینا کے لئے ہے تفجیرا مفعول مطلق، مصدر کو تاکید کے لئے لایا گیا ہے۔ یعنی اللہ کے بندے جنت کے اندر اپنے مکانوں اور محلات میں اوپر نیچے جہاں چاہیں گے اشارہ سے لے جائیں گے بلندی یا پستی یا اس قسم کی کوئی اور چیز اس میں رکاوٹ نہ بن سکے گی۔
Top