Ashraf-ul-Hawashi - Al-Muminoon : 6
اِلَّا عَلٰۤى اَزْوَاجِهِمْ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَاِنَّهُمْ غَیْرُ مَلُوْمِیْنَۚ
اِلَّا : مگر عَلٰٓي : پر۔ سے اَزْوَاجِهِمْ : اپنی بیویاں اَوْ : یا مَا مَلَكَتْ : جو مالک ہوئے اَيْمَانُهُمْ : ان کے دائیں ہاتھ فَاِنَّهُمْ : پس بیشک وہ غَيْرُ مَلُوْمِيْنَ : کوئی ملامت نہیں
(کسی سے اپنی خواہش پوری نہیں کرتے، مگر اپنی بی بیوں یا لونڈیوں سے ان پر کوئی الزم نہیں5
5 ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں جس طرح بیوی سے تعلق رکھنا جائز ہے اسی طرح لونڈی سے تعلق رکھنا بھی جائز ہے۔ عاوہ ازیں شہوت رانی حرام ہے۔ لہٰذا نکاح متعہ بھی حرام ہے۔ گو بعض موقعوں پر اس کی اجازت دی گئی تاہم بعد میں ہمیشہ کے لئے حرام قرار دے دیا گیا کیونکہ جس عورت سے متعہ کیا جائے اس پر زوجہ کا اطلاق نہیں ہوسکتا۔ نیز دیکھئے سورة نساء آیت 24 ۔ امام شافعی (رح) اور دیگر علما نے اس آیت سے اسمنا کی حرمت پر بھی استدلال کیا ہے کیونکہ ان کو عادوں حد سے متجاوز کرنے والے قرار دیا ہے۔ (ابن کثیر، قرطبی)
Top