Ashraf-ul-Hawashi - Al-Muminoon : 89
سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ
سَيَقُوْلُوْنَ : جلد (ضرور) وہ کہیں گے لِلّٰهِ : اللہ کے لیے قُلْ : فرما دیں فَاَنّٰى : پھر کہاں سے تُسْحَرُوْنَ : تم جادو میں پھنس گئے ہو
وہ ضرور یہی کہیں گے اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیا رہے تو کہہ پھر تم کہاں یہ کر رہے ہو۔4
4 ۔ یعنی تمہیں کہاں سے دھوکا لگتا ہے کہ ایسی قدرت اور ایسے اختیار والی ہستی ک چھوڑ کر بےحقیقت ہستیوں کو اپنا معبود بناتے پھرتے ہو ؟ یہ تمام تر خطاب ان لوگوں سے ہے جو صانع کے وجود کے قائل تھے جیسا کہ ان کے جواب ” سیقولون للہ “ سے معلوم ہوتا ہے۔ تسحرون “ کا لفظی ترجمۃ تم مسحور کئے جاتے ہو۔ “ (قرطبی)
Top