Ashraf-ul-Hawashi - Ash-Shura : 14
وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ
وَمَا تَفَرَّقُوْٓا : اور نہیں اختلاف کیا اِلَّا : مگر مِنْۢ بَعْدِ : بھلا اس کے جو مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ : آگیا ان کے پاس علم بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ : سرکشی کی وجہ سے، ان کے اپنے درمیان وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةٌ : ایک بات سَبَقَتْ : جو پہلے گزرچکی مِنْ رَّبِّكَ : تیرے رب کی طرف سے اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّي : ایک وقت مقرر تک لَّقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الَّذِيْنَ : اور بیشک وہ لوگ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ : جو وارث بنائے گئے کتاب کے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد لَفِيْ شَكٍّ : البتہ شک میں ہیں مِّنْهُ مُرِيْبٍ : اس کی طرف سے بےچین کردینے والے
اور پیغمبروں کا ایک ہی دین تھا اب لوگ جو اختلاف کرنے لگے تو سمجھ آجانے کے بعد ہے15 آپس کی ضد اور نفسانیت) سے اور اے پیغمبر اگر تیرا مالک ایک بات نہ فرما چکا ہوتا (کہ ان کو ایک ٹھیرے ہوئے وعدے تک مہلت ہے یعنی قیامت تک) تو کب کا) ان کا جھگڑا چک جاتا (ابتک کب کے بلاک ہو چکتے) اور جو لوگ ان (اگلے کافروں) کے بعد اللہ کی کتاب کے وارث ہوئے1 وہ بھی قرآن کی طرف سے یا تیری طرف سے اشک دستک میں2 پڑے ہوئے ہیں
15 یعنی یہ فرقہ بندی انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم یعنی واضح ہدایت آجانے کے بعد کی یا اس کا علم ہوجانے کے باوجود کہ فرقہ بندی گمراہی ہے انہوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا۔ ( فتح) 1 یعنی آپ ﷺ کے زمانہ کے یہود و نصاریٰ ۔ 2 اور اسی لئے وہ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لا رہے۔
Top