Ashraf-ul-Hawashi - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور لوگو تم پر جو مصیبت آتی ہے تو تمہارے ہاتھوں نے جو کیا اس کی سزا میں6 اور بہت سے قصور معاف کردیا ت ہے7
6 یعنی تمہارے اپنے برے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ 7 یہ اس کی رحیمی اور کریمی ہے۔ اگر وہ ہر قصور پر گرفت کرتا تو زمین پر کوئی جاندار باقی نہ رہتا۔ شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : یہ خطاب عاقل بالغ لوگوں کو ہے گنار گاہ ہوں یا نیک، مگر بنی ( اس میں) نہیں داخل اور لڑکے ان کے واسطے اور کچھ ہوگا اور سختی دنیا کی بھی آگئی اور قبر کی اور آخرت کی “۔ بھی ( موضح) حضرت ابو موسیٰ ( علیہ السلام) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” بندے کو کوئی چھوٹی یا بڑی مصیبت نہیں پہنچتی مگر وہ اس کے گناہ کی بدولت ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے جو درگزر فرماتا ہے وہ اس سے زیادہ ہوتا ہے “۔ اور پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (شوکانی بحوالہ ترمذی)
Top