Ashraf-ul-Hawashi - Ash-Shura : 37
وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ يَجْتَنِبُوْنَ : جو بچتے ہیں۔ اجتناب کرتے ہیں كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ : بڑے گناہوں سے وَالْفَوَاحِشَ : اور بےحیائی کی باتوں سے وَاِذَا مَا غَضِبُوْا : اور جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں هُمْ يَغْفِرُوْنَ : تو وہ درگزر کرجاتے ہیں۔ معاف کرجاتے ہیں
وہ کہیں اس سے بہتر اور اس سے زیادہ پائیدار رہے اور یہ تو اب ان لوگوں کے لئے ہے جو بڑے بڑے گناہوں سے اور بےحیائی کے کاموں سے جیسے زنا الوالت وغیرہ) بچے رہتے ہیں4 اور جب ان کو غصہ آجاتا ہے تو اس کو بی جا کر لوگوں کے خطا (معا کردیتے ہیں5
3 یعنی وہ اعلیٰ درجہ کا بھی ہے اور ہمیشہ رہنے والا بھی جبکہ دنیا کا مال و متاع اس کے مقابلے میں معمولی نوعیت کا بھی ہے اور عارضی بھی۔ 4 بڑے گناہوں کی تشریح کے لئے ( دیکھئے سورة نساء آیت 31) 5 غصہ کو پی کر لوگوں کی خطا معاف کردینا انسان کے بہترین اوصاف میں سے ہے۔ ( دیکھئے آل عمران :130، 133) صحیحین میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے کبھی اپنی ذات کیلئے انتقام نہیں لیا البتہ جب اللہ کی قائم کردہ حرمتوں میں سے کسی حرمت کو توڑا جاتا تو آپ ﷺ انتقام لیتے تھے۔ ( ابن کثیر) اور در گزر کا وصف آنحضرت ﷺ کے بعد خلفائے راشدین ؓ میں بدرجہ اتم پایا جاتا تھا۔ ( قرطبی)
Top