Ashraf-ul-Hawashi - Ash-Shura : 38
وَ الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١۪ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ١۪ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۚ
وَالَّذِيْنَ اسْتَجَابُوْا : اور وہ لوگ جو حکم مانتے ہیں لِرَبِّهِمْ : اپنے رب کا وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرتے ہیں نماز وَاَمْرُهُمْ : اور ان کے معاملات شُوْرٰى بَيْنَهُمْ : آپس کے مشورے سے ہوتے ہیں وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ : اور اس میں سے جو رزق دیاہم نے ان کو يُنْفِقُوْنَ : وہ خرچ کرتے ہیں
اور جو اپنے مالک کا حکم مانتے ہیں جو پیغمبر کے ذریعہ سے ان کو دیا جاتا ہے اور نماز کو درستی کے ساتھ (ٹھیک وقت پر جماعت سے) ادا کرتے ہیں اور ان کا کام آپس کی صلاح اور مشورے) سے چلتا ہے6 اور جو مال متاع ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں7
6 یعنی وہ اپنے تمام اجتماعی، سیاسی مسائل آپس کے صلاح و مشورہ سے طے کرتے ہیں اور اس چیز کو اسلامی نظام اجتماعی کی ہم امتیازی خصوصیت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ سورة آل عمران ( آیت 159) میں آنحضرت ﷺ احکام منصوصہ کے سوا ہر قسم کے مصالح ملکی کے بارے میں صحابہ ؓ سے مشورہ کرتے اور ان کے مشورے قبول فرمایا کرتے تھے اور بعد میں خلافت راشدہ کی بنیاد ہی شوری پر رکھی گئی اور حضرت ابوبکر ؓ کا انتخاب بھی اسی اصل کے تحت ہوا۔ موجود دور کی جمہوریت اور اسلامی شورائی نظام میں اہم بنیادی فرق یہ ہے کہ جدید جمہوریت میں نمائندگان جمہور قانون سازی کے غیر محدود اختیارات رکھتے ہیں، لیکن اسلام میں کتاب و سنت کے نصوص کی موجودگی میں خلیفہ کو مشاورت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جب کسی امر کے متعلق کتاب و سنت کا فیصلہ نہ ملتا ہو تو پھر پیش آمدہ اجتماعی امور میں ” مجلس مشاورت “ مجاز ہے کہ کوئی فیصلہ کرے۔ 7 یعنی فرض زکوٰۃ اور نفلی صدقات ادا کرتے ہیں۔
Top