Ashraf-ul-Hawashi - Ash-Shura : 40
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا١ۚ فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ
وَجَزٰٓؤُا : اور بدلہ سَيِّئَةٍ : برائی کا سَيِّئَةٌ : برائی ہے مِّثْلُهَا ۚ : اس جیسی فَمَنْ عَفَا : پس جو کوئی درگزر کرجائے وَاَصْلَحَ : اور اصلاح کرے فَاَجْرُهٗ : تو اجر اس کا عَلَي : زمہ ہے اللّٰهِ : اللہ کے اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ : نہیں محبت کرتا ظالموں سے
اور برائی کا بدلہ اتنی ہی برائی ہے9 اس پر بھی جو کوئی معاف کر دے اور مل جائے (صلح کرلے) تو اس کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے10 بیشک اللہ تعالیٰ نے ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا11
9 یعنی بدلہ لینے میں اس قاعدہ کو ملحوظ رکھنا چاہیے کہ جس قدر زبانی ہوئی ہے اس سے بڑھ کر بدلہ نہ لے۔ 10 یعنی اللہ تعالیٰ اسے اجر عطا فرمائے گا۔ حدیث میں ہے کہ قیامت کے روز منادی ہوگی کہ وہ لوگ کھڑے ہوجائیں جن کا ثواب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے۔ پھر وہی لوگ کھڑے ہونگے جنہوں نے دنیا میں لوگوں کے قصور معاف کئے تھے۔ ( شوکانی) 11 ظالم وہ ہے جو برائی کی ابتداء کرے یا برائی کا بدلہ لینے میں اس سے زیادہ برائی کا ارتکاب کرے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : جو دو شخص اہم گالم گلوچ کریں تو اس کا سارا وبال پہل کرنے والے پر ہے جب تک کہ دوسرا بدلہ لینے میں حد سے تجاوز نہ کرے۔
Top