Ashraf-ul-Hawashi - Al-Hashr : 15
كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ
كَمَثَلِ : حال جیسا الَّذِيْنَ : جو لوگ مِنْ قَبْلِهِمْ : ان سے قبل قَرِيْبًا : قریبی زمانہ ذَاقُوْا : انہوں نے چکھ لیا وَبَالَ اَمْرِهِمْ ۚ : اپنے کام کا وبال وَلَهُمْ : اور ان کے لئے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب دردناک
ان کو بھی حال ہی ہونا ہے جو بھی یعنے جنگ بدر میں ان سے پہلے مکہ کے کافروں کا حال ہوچکا7 مارے گئے قید ہوئے) اپنے کئے کا مزہ چکھا اور آخرت میں انہیں ان کو تکلیف کا عذاب ہونیوالا ہے
7 یہی مفہوم شاہ صاحب نے اپنے فوائد میں ذکر کیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ ان سے ” یہود بنی فیقاع “ مراد ہوں جن کو رسول اللہ ﷺ نے بنی نفیر سے تھوڑی مدت پہلے مدینہ سے نکال دیا تھا۔ یہ قول قتادہ اور محمد بن اسحاق کا ہے۔ اس یہی ٹھیک معلوم ہوتا ہے۔ ابن کثیر
Top