Ashraf-ul-Hawashi - Al-Mulk : 12
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
بیشک جو جو لوگ بن دیکھے اپنے مالک سے ڈرتے ہیں2 ان کے لئے آخرت میں گناہوں کی بخشش ہے بڑا نیک بہشت )
2 ” بن دیکھے “ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے اور نہ اس کے عذاب کو محض انبیاء کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بالغیب کا دوسرا ترجمہ ” تنہائی میں بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ صحیحین کی حدیثت ’ دسبعتہ بظلھم اللہ فی ظلہ “ میں ساتواں وہ شخص شمار کیا ہے جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “ (ابن کثیر)
Top