Ashraf-ul-Hawashi - Al-Mulk : 15
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہی خدا تو ہے جس نے زمین کو تمہارے چلنے پھرنے کے لئے4 ملائم نرم ہموار کردیا اس5 اس کے رستوں میں چلتے پھرتے رہو5 اور اس کی دی ہوئی روزی مزے سے کھائو6 اور اسی کے پاس تم کو مرے بعد جی اٹھ کر جانا ہے
4 ” ذلولا “ کے لفظی معنی ہیں ذلیل سخر اور تابعدار ملائم بنادیا ہے کہ تم جیسے چاہو اسے کھو دو ، اس میں راستے بنائو اور اس کی مٹی سے کچی اور پکی عمارتیں تعمیر کرو وغیرہ5 ” مناکب “ کے لفظی معنی ” کندھوں “ کے ہیں۔ مراد زمین کے راستے، اطراف اور پہاڑ ہیں۔ یعنی تین طرف چاہو سفر کرو، کسب و تجارت کے لئے چلو پھرو۔6 یعنی کھائو پیئو مگر آزادی سے نہیں بلکہ سمجھتے ہوئے کہ آخر کار تمہیں اپنے رب کے سامنے حاضر ہوتا ہے جو تم سے ایک ایک چیز کا حساب لے گا کہ اسے کن ذرائع سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا ؟
Top