Ashraf-ul-Hawashi - Al-Mulk : 22
اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُكِبًّا عَلٰى وَجْهِهٖۤ اَهْدٰۤى اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ
اَفَمَنْ يَّمْشِيْ : کیا پھر جو چلتا ہے مُكِبًّا : سرنگوں ہوکر۔ سر جھکا کر عَلٰي وَجْهِهٖٓ : اپنے چہرے پر اَهْدٰٓى : زیادہ ہدایت یافتہ ہے اَمَّنْ يَّمْشِيْ : یا جو چلتا ہے سَوِيًّا : سیدھا عَلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ : سیدھے راستے پر
بھلا جو کوئی اندھا ہو کر منہ کے بل چلے وہ راہ پائے گا یا جو سیدھا صاف سڑک پر جا رہا ہو1
1 یہ مومن اور کافر کی مثال ہے۔ کافر باطل خیالات اور شرک کی تاریکیوں میں پھنسا ہوا ہے، جیسے کوئی اندھا ہو کر منہ کے بل چل رہا ہو۔ وہ بھلا صحیح راستہ پر کیسے چل سکتا ہے کہ اپنی مراد کو پہنچے۔ اس کے برعکس مومن توحید کی راہ پر سیدھا اتنا ہوا چل رہا ہے وہ یقینا اپنی منزل مقصود یعنی جنت تک پہنچے گا۔
Top