Asrar-ut-Tanzil - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
جو شخص آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہو ہم اس کے لئے اس کی کھیتی میں ترقی دیں گے اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہتا ہو اس کہ ہم اس میں سے کچھ دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا
آیات 20 تا 29۔ جو کوئی اپنی محنت کا پھل آخرت میں چاہتا ہے تو اس کے انعامات اور اجر اور زیادہ بڑھادیے جاتے ہیں اور وہ اپنی طلب سے بھی زیادہ پاتا ہے اور جو شخص صرف حصول دنیا کے لیے کوشش کرتا ہے اسے دنیا میں سے کچھ نہ کچھ عطا کردیا جاتا ہے یعنی ضروری نہیں کہ جس انداز یاجتنی مقدار میں اس کی خواہش ہے اسے مل جائے بلکہ یہ اللہ کی مرضی کہ اس کا نصیبہ کیا مقرر کیا ہے وہی ملتا ہے جبکہ یہ سب آخرت کے طلب گار کو بھی ملتا ہے۔ مگر آخرت چھوڑ کر صرف دنیا کے طالب کی خواہش دنیا میں پوری نہیں ہوتی اور آخرت سے محروم رہ جاتا ہے کہ آخرت پر ایمان ہی نہ تھا لہذا آخرت میں کچھ نہیں پاتاگویا مومن دنیا کا کام بھی طلب آخرت میں کرتا ہے لہذا اطاعت کی حدود میں رہتا ہے جبکہ کافر سب کچھ جھپٹ لیناچاہتا ہے جبکہ نہ دنیا میں سب کچھ پاسکتا ہے اور نہ ہی آخرت میں اسے کچھ بھی ملے گا۔ تو کیا انہیں اللہ کے برابر یا اس کا کوئی شریک ہاتھ آگیا ہے جس نے ان کے لیے الگ دین کی راہ نکال دی ایسی جو اللہ کے دین سے بالکل جدا ہے یعنی جب اللہ کے علاوہ کوئی معبود یا اس کا شریک ہے ہی نہیں تو انہیں اسلام کے علاوہ کوئی دین کہاں سے مل گیا یہ اتنابڑا جرم کر رہے ہیں کہ اگر روز قیامت مقرر نہ ہوچکا ہوتاتو ان کا فیصلہ ابھی کردیاجاتا اور یقینا ایسے ظالموں کے لیے دردناک عذاب ہے اور اے مخاطب تو دیکھے گا کہ ظالم اپنی کرتوتوں کی سزا کے خوف سے میدان حشر میں کھڑے لرز رہے ہوں گے مگر اس سے بچ نہ پائیں گے بلکہ وہ ان پر ضرور لاگوہوگی اور اسی میدان میں مومن خوش ہو رہے ہوں گے کہ جو ایمان لائے اور اپنے عمل اور کردار سے اپنا ایمان ثابت کیا وہ جنت کے باغوں میں جائیں گے نیز اللہ انہیں ہر وہ نعمت دے گا جس کی خواہش کریں گے اور یہ بہت بڑا اور بلند مرتبہ ہے جو انہیں نصیب ہوگا اور خوب سن لو کہ ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو اللہ اسی بات کی خوش خبری سنا رہے ہیں آپ ان سے کہیے کہ میں اس تمام محنت پر جو دین کے لیے کررہا ہوں اور جو سب انسانیت کے اور تمہارے بھی بھلے کے لیے ہے تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا مگر یہ ضرور کرو کہ کم ازکم قرابت داری کا لحاظ کرو مجھے ایذادینے کی کوشش نہ کرو میری بات اطمینان سے سنو اور اس پر غور کرو پھر تمہیں اختیار ہے مانویانہ مانو کوئی تم سے زبردستی منوانا نہیں چاہتا۔ مودۃ فی القربی۔ عرب کا معاشرہ قبائلی زندگی پر استوار تھا اور ہر شخص کو اس کے قبیلے کا تحفظ حاصل ہوتا تھا اس کے بغیر وہاں زندگی محال تھی اور حضرت ابن عباس کے مطابق نبی (علیہ السلام) قریش کے ایسے نسب سے تعلق رکھتے تھے کہ اس کے ہر ذیلی خاندان میں آپ کا رشتہ ولادت قائم تھا چناچہ ارشاد ہوا کہ ان سے کہیے کہ میں تم سے اپنی دعوت پر کوئی معاوضہ ہرگز نہیں مانگتا مگر تم مجھ سے قرابت داری کا معاملہ اور مروت ومودت کا معاملہ کرو مجھے آرام سے رہنے دو اور میری حفاظت کرو (روح) اور ابن جریر اور دوسری تفاسیر میں یہ الفاظ بھی ہیں جو اس امر کی مزید وضاحت کرتے ہیں کہ اے قوم اگر میرے اتباع سے انکار کرتے ہوتوقرابت کے رشتے کے باعث میری حفاظت کرو ایسا نہ ہو کہ دوسرے لوگ جن سے قرابت نہیں ایمان لاکر میری نصرت و حفاظت میں تم پر بازی لے جائیں۔ ایک اور ضعیف روایت حضرت ابن عباس ہی سے ملتی ہے کہ لوگوں نے اس آیت کے بارے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ حضرت علی ، حضڑت فاطمہ ، اور ان کی اولاد کی محبت مگر اس کو درمنثور میں علامہ سیوطی نے تخریج احادیث میں حافظ ابن حجر نے ضعیف کہا ہے کہ اجر رسالت تو کسی نبی نے طلب نہیں فرمایا چہ جائیکہ شان رسالت ماب سے یہ توقع کی جائے لہذا جمہورامت کے نزدیک وہی تفسیر جو اوپر بیان کی گئی مگر شیعہ حضرات نے اس پر عقائد کی بنیاد استواری کردی ہے جو سراسر باطل ہے اور جس کی کوئی بنیاد نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اہل بیت رسول سے محبت کی کوئی اہمیت نہ ہو بلکہ اہل بیت رسول اور آل رسول کی محبت جزو ایمان ہے اور آل رسول میں ساری امت داخل ہے جو کوئی جتنا قریب ہے اتنا ہی سب کے لیے محبوب ہے اور اہل بیت میں آپ کی ازواج مطہرات اور آپ کی اولاد شامل ہے سب اپنے اپنے درجے کے مطابق محبوب ہیں اور ان کی محبت ہی ایمان ہے بھلا کیسے نہ ہو جب کہ نبی (علیہ السلام) کے حوالے سے ہے بلکہ آج کے دور میں بھی اگر کوئی ایسافرد ملے جسے آپ سے نسبی تعلق ہو تو وہ محبت اور احترام کا مستحق ہے بجز اس کے کہ وہ اسلام چھوڑ نہ چکا ہو (معاذ اللہ) ۔ اور جو کوئی بھی نیکی کرے اسے اس کا اجرزیادہ کرکے ملے گا اس لیے کہ اللہ کریم معاف کرنے والا ہے اور نیک اعمال کا قدر دان ہے یا پھر ان ماننے والوں کا کہنا یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اللہ پر بہتان باندھا ہے (نعوذ باللہ) اور آپ پر وحی نہیں آتی۔ مگر یہ ایسے اندھے ہیں کہ وحی کس طرح حقائق کی نقاب کشائی کرتی چلی جاتی ہے اور کتنے خوبصورت دلائل کے انبار ہیں یہ آپ کے قلب اطہر سے کیسے بیان تک پہنچتے کہ اگر اللہ چاہتا تو آپ کے دل پر مہر کردیتا جیسا کہ جھوٹے دعویدار کے دل پر کردیاجاتا ہے تو وہ اول فول بکتا ہے یوں حق و باطل واضح ہوجاتا ہے اور اللہ ہمیشہ باطل کو مٹاتا ہے وہ کبھی بامراد نہیں ہوتا ، اور حق کو دلائل کے ساتھ ثابت فرماتا ہے اور وہ ذات دلوں کے بھیدوں سے واقف ہے ۔ آپ کے دل کا حال کہ کائنات کے لیے رحمت کا باعث ہے اسے معلوم اور ان کے دلوں کے کھوٹ کو بھی جانتا ہے مگر وہ ایسا کریم ہے کہ توبہ کو قبول کرتا ہے کوئی سچے دل سے کفر اور نافرمانی سے باز آجائے تو منظور فرماتا ہے اور اس کے گناہ معاف کردیتا ہے اور محض زبانی توبہ سے دھوکا بھی نہیں دیاجاسکتا کہ جو کچھ بھی کیا جاتا ہے وہ اس کی حقیقت جانتا ہے جو بھی ایمان قبول کرے اور اپنا کردار درست کرلے کہ یہی توبہ ہے تو اللہ کریم اس کے اعمال قبول فرماتا ہے اور اپنی عطا سے اس کا اجر بہت زیادہ کردیتا ہے اور انکار کرنے والوں کو عذاب بھی بہت سخت ہوگا ، اگر اللہ کریم دنیا کا رزق ہر کسی پر عام کردیتے تو زمین میں فساد پیدا ہوجاتا پھر لالچ میں آکر دوسروں سے چھیننے کی کوشش کرتے اور فساد برپا کردیتے اس لیے وہ ایک اندازے سے رزق تقسیم فرماتا ہے کسی کو مال اور دوسرے کو محنت کی قوت کسی کو علم اور کسی کو کوئی اور نعمت عطا کرتا ہے اور یوں باہمی ربط کی ضرورت انسانی معاشرہ تشکیل کرتی ہے کہ وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور دیکھ رہا ہے جس طرح وہی ذات ایک ایک تنکے اور شے کے لیے بارش نازل فرماتی ہے اور اکثر اوقات انسان اپنی تدابیر سے مایوس ہوچکے ہوتے مگر پھر وہ بارش برسا کر کھیتیاں ہری بھری کردیتا ہے۔ اور وہی سب کا کارساز ہے اور وہ ہی تعریف کے لائق ہے اس کی عظمت کے دلائل میں اس کی اتنی بڑی صنعت زمین و آسمان کی صورت میں موجود ہیں اور اس میں جس قدر جاندار پیدا فرمائے ان کا نظام ان کی بقا کے لیے خوراک اور موسم ہر ایک اپنے اندر الگ الگ دلائل کا جہان سمائے ہوئے ہیں اور جس نے انہیں پھیلایا ہے وہ جب چاہے انہیں واپس جمع بھی کرسکتا ہے۔
Top