بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Asrar-ut-Tanzil - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
بڑی برکت والا ہے وہ (اللہ) جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پہ قادر ہے۔
آیات 1 تا 14۔ اسرار ومعارف۔ بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔ موت اور اس کی اقسام۔ زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک حال ہے اسی کا نام موت ہے وہ بھی زندگی کی طرح مخلوق ہے عدم محض نہیں جس طرح زندگی کی اقسام ہیں کہ جمادات میں حیات ہے نباتان میں ہے اور حیوانات میں ہے مگر سب کی اپنی اپنی حیات ہے اور سب سے کامل حیات انسان میں ہے کہ وہ معرفت باری کا شعور رکھنے کی استعداد رکھتا ہے اور یہی استعداد ایمان وعمل اور آزمائش کی بنیاد ہے کہ جس بار سے آسمان اور زمین اور پہاڑ تک ڈر گئے وہ انسان نے اٹھالیا اسی طرح موت کی بھی اقسام ہیں اور انسانی موت دو طرح سے ہے کہ معرفت باری کی وہ استعداد اپنے کردار کے باعث ضائع کردے تو بھی ایک طرح سے انسانیت سے عاری ہوکرمردہ قرار پایا جیسے کفار کو مردہ کہا گیا ہے اور دوسرے جب بدن اور روح کا وہ رشتہ منقطع ہوجائے جو دنیا کی زندگی کا سبب ہے اور یوں دار عمل سے اس کا کام ختم ہوا اور دار آخرت پر اجل کو چل دیا۔ آسماں۔ وہی ہستی ہے جس نے سات آسمانون کو تہہ درتہہ پیدا فرمایا کسی کو اس کے بنانے میں کوئی کمی نظر نہیں آتی خواہ بار بار نظردوڑائیں آلات سے دیکھیں یامشینوں سے نظر تھک ہار کر رہ جائے گی مگر اسے کوئی خامی نہ ملے گی ضروری نہیں کہ یہ نیلگوں نظر آنے والا ہی آسمان ہو بلکہ ہوسکتا ہے دوری کے باعث فضا ایسی نظر آتی ہو اور آسمان بہت پرے یہ بھی ممکن ہے فضاصاف ہو اور آسمان ہی نظر آتا ہوں بہرحال مادی نظر سے دیکھیں یا عقل وخرد سے کسی طرح کی کوئی کمی نظر نہیں آتی اور ہم نے ستاروں کو چراغوں کی طرح سجا کر پہلے آسمان کے لیے زینت کا سبب بنادیا اگرچہ ستارے آسمان سے بہت نیچے ہوں مگر زمین سے نظر کریں تو آسمان پر ٹانکے ہوئے ہی نظر آتے ہیں نیز ان سے شیطانوں کو بھگانے کا کام بھی لیا جاتا ہے ۔ اس سے مراد شہاب ثاقب بی ہوسکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شیاطین کو بھگانے کے لیے کوئی شعلہ یاکرنٹ ستاروں سے نکلتا ہو ضروری نہیں کہ ہمیں بھی نظر آئے ہاں یہ طے ہے کہ شیاطین کو ستاروں کی حدود پار نہیں کرنے دی جاتیں اور شیطانوں کے لیے دہکتی آگ کا عذاب بھی تیار کررکھا ہے ۔ ساتھ وہ لوگ بھی جو شیطاین کی راہ اختیار کرکے اپنے رب سے کفر کرتے ہیں وہ بھی جہنم میں ڈالے جائیں گے جو بہت ہی تکلیف دہ جگہ ہے جب انہیں اس میں پھینکا جائے گا تو وہ اس کی دھاڑ سن کر دہشت زدہ ہوجائیں گے اور الگ رہا ہوگا کہ غصے سے پھٹ جائے گی اور کفار سے دوزخ میں متعین فرشتہ یاداروغہ پوچھے گا کیا تمہارے پاس کوئی اللہ کا نبی نہ آیا جو تمہیں بروقت اس برے انجام سے مطلع کرتا اور تم بچنے کی تدبیر کرتے تو کہیں گے ہاں بیشک ہمارے پاس ایسی ہستی آئی جس نے ہم کو ان سب باتوں کی اطلاع دی مگر ہم نے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کردیا بلکہ کہہ دیا کہ اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا آپ نے محض جھوٹا فسانہ گھڑ رکھا ہے اور آپ خود غلطی کیے جا رہے ہیں اور تب کہیں گے کاش ہم ان کی باتوں پہ غوروفکر کرتے اور عقل سے کام لیتے تو آج دوزخ میں نہ ہوتے۔ انہوں نے اپنی غلطی قبول بھی کی اب آکر جب ساراکام ختم ہوچکا اب اس اقرار کا انہیں کچھ حاصل نہیں ہاں وہ لوگ جو دنیا میں اپنے رب پر غائبانہ ایمان لائے اور پھر اس کی عظمت کو اپنے دلوں میں محسوس کیا ان کے لیے اللہ کی بخشش ہے کہ انسانی کمزوریوں کی بنا پر اگر کوئی خامی رہ گئی تو اللہ کریم معاف فرما کر انہیں بہت عظیم الشان بدلہ عطافرمائیں گے۔ اے لوگو تم چھپ کر باتیں کرویاظاہر میں کرو اللہ کی ذات تو ایسی ہے جو دلوں کے بھید تک سے واقف ہے اور کیوں نہ ہو اس نے خود ہر ایک کو پیدا کیا حیات بخشی کام کرنے اور سوچنے کی طاقت دی بھلاوہ ہر حال سے کیوں واقف نہ ہوگا بلکہ وہ تمام چھپے بھید جاننے والا اور ہر شے اور ہر حال سے باخبر ہے۔
Top